نُورِ ہدایت — Page 1146
ترقی یافتہ ملکوں میں بھی جب جماعت کی ترقی ہوگی تو یہاں بھی حسد کی آگ بھڑ کے گی۔چھوٹے چھوٹے تجربے تو ہمیں ہونے شروع ہو گئے۔مغربی ممالک میں بھی بعض جگہ سے رپورٹس آتی ہیں کہ جب ہم چرچوں میں جا کر فنکشن کرتے ہیں تو شروع میں تو چرچ بڑی خوشی سے ہمیں موقع دیتے ہیں۔لیکن جب بار بار وہاں جاؤ اور دو تین دفعہ لگا تار جانے کے بعد جب لوگوں کی توجہ اسلام کی طرف پیدا ہوتی دیکھتے ہیں تو مخالفت شروع کر دیتے ہیں اور حسد کی آگ جاگ جاتی ہے۔اور وہاں پھر اکثر یہ ہوا کہ جماعت کو جگہ دینے سے انکاری ہو گئے۔(ماخوذ از هفت روزه افضل انٹرنیشنل 17 فروری 2017، صفحہ 14-15) حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ماہ رمضان المبارک 2017ء کے آخری روز قرآن مجید کی آخری تین سورتوں کا درس دیتے ہوئے فرمایا کہ : مسلمان سورۃ الفلق پڑھتے ہیں لیکن اس کی گہرائی پر غور نہیں کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ الفلق کے مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ کہہ میں شریر مخلوقات کی شرارتوں سے خدا کی پناہ میں آتا ہوں اور اندھیری رات سے خدا کی پناہ میں آتا ہوں یعنی یہ زمانہ اپنے فساد عظیم کی رُو سے اندھیری رات کی مانند ہے سو الہی قوتیں اور طاقتیں اس زمانے کی تنویر کے لئے درکار ہیں۔اس زمانے میں اگر کوئی روشنی حاصل کرنی ہے تو دنیاوی طاقتوں سے نہیں ملے گی اس کے لئے الہی قوتیں چاہئیں۔فرمایا کہ انسانی طاقتوں سے یہ کام انجام ہونا محال ہے۔اس طرح آپ نے فرمایا کہ اس سورۃ میں اس تار یک زمانے سے خدا کی پناہ مانگی گئی ہے جب لوگ خدا کے مسیح کو دکھ دیں گے۔تو یہ مسلمانوں کی حالت بھی بیان فرما دی، غیروں کی بھی حالت بیان فرما دی۔مسلمانوں کی طرف سے سب سے زیادہ خدا کے میسیج کو دکھ دیا گیا اور پھر یہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمیں وہ شان و شوکت بھی دوبارہ حاصل ہو جائے جو پہلے حاصل تھی، وہ نور بھی حاصل ہو جائے جو پہلے حاصل تھا۔آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے الہی قوتیں درکار ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طاقت کے بغیر وہ نور 1146