نُورِ ہدایت — Page 1116
اپنے خاندانوں پر اور جتھوں پر تم لوگ بھروسہ رکھتے ہو اپنے محلہ کے لوگوں پر اور محلہ کے چوہدریوں پر تم بھروسہ رکھتے ہو اپنی حکومتوں پر۔اور تم بھروسہ رکھتے ہو اپنے ملک کی فوجوں پر اور اپنے ملک کے استادوں پر جولوگوں کو جہالت سے بچاتے ہیں اور ملک کے ڈاکٹروں پر جو اہل ملک کی صحت کی ترقی میں مدد دیتے ہیں اور ملک کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔غرضیکہ تم لوگ ان چیزوں پر بھروسہ رکھتے ہو۔مگر میرا ان میں سے کسی پر بھروسہ نہیں۔بلکہ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ان کی طرف سے توجہ ہٹا کر میں نے رَبُّ الْفَلَق کے ساتھ کو لگالی ہے اور اسی پر میرا بھروسہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ سے پہلے قُل کا لفظ لا کر ہر مسلمان کو گویا یہ ہدایت دی ہے کہ جب تم اللہ تعالیٰ کی صحیح توحید کا علم حاصل کر چکے ہو تو ہر مجلس میں جا کر یہ اعلان کروتا ہر شخص تمہارا نگران بن جائے۔پس سورۃ فلق کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک مومن سے یہی کہا ہے کہ اگر تمہارے اندر واقعی ایمان پیدا ہو چکا ہے تو ساری دنیا کو چیلنج دے دو اور سب لوگوں کے سامنے دنیا سے بے پروا ہو کر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی پناہ میں دے دینے کا اعلان کر دو۔اللہ تعالیٰ نے یہاں قل کا لفظ رکھ کر بتا دیا کہ اب تم سارا قرآن کریم پڑھ چکے اب تمہارے دل کا ایمان پختگی حاصل کر چکا ہے اب اسے مخفی نہیں رکھا جا سکتا۔جو بات تم ہمارے سامنے آ کر کہتے ہو اسے یا تو کھلے میدان میں ظاہر کرو۔لوگوں کو اس پر گواہ بلکہ قاضی اور حج بناؤ۔تاجب تمہارا عمل اس کے خلاف ہو تو وہ ملامت کر سکیں اور یا پھر اس دعوی کو ترک کر دو۔ہم تمہارے اس دعویٰ کو نہیں مانتے جو تم علیحدگی میں ہمارے حضور کرتے ہو۔اور نماز پڑھتے وقت کہتے ہو کہ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔اے میرے رب میں تیری پناہ میں آتا ہوں۔تمہارے اس دعویٰ کے معنے تو یہ ہیں کہ تمام مخلوق سے تمہارا رشتہ ٹوٹ چکا اور خدا تعالیٰ کے ساتھ قائم ہو گیا۔اب تمہارا بھروسہ ماں باپ، بھائی بہن، دوست احباب، رشتہ داروں ، قوم وحکومت پر نہ ہو 1116