نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1110 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1110

انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب وہ ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت نہیں۔قرآن کریم کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے آغو ذرکھا ہے اور اس طرح یہ نصیحت کی ہے کہ دیکھو تم نے قرآن کریم کو پڑھا، اس پر غور کیا، اس کے مطالب کو سمجھا اور روحانیت میں ترقی حاصل کی۔لیکن یاد رکھو جہاں تم نے یہ سمجھا کہ اب اس کے بعد تمہیں دوسروں پر کوئی فوقیت حاصل ہوگئی ہے اور تم کبر میں مبتلا ہو گئے وہی تمہاری تباہی کا دن ہو گا۔اس لئے جب بھی تم کوئی دینی یادنیوی کام کرو خدا تعالیٰ کی طرف نظر رکھو۔اور جب اس کام کو ختم کر لو تب بھی خدا تعالیٰ پر نظر رکھو۔اس میں یہ پیشگوئی بھی معلوم ہوتی ہے کہ مسلمان آخری دنوں میں اپنی فتوحات پر جو اُن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملیں گی متکبر ہو جائیں گے اور اس کے نتیجہ میں پھر طرح طرح کی تباہیاں ان پر نازل ہونی شروع ہو جائیں گی۔پس ان کو چاہئے کہ سُورَةُ الفَلَقِ اور سُورَةُ الناس پڑھتے رہا کریں تا کہ اللہ تعالیٰ ان کو تکبر سے بھی بچائے اور دلی وساوس سے بھی بچائے تا کہ وہ دشمن کے حملہ سے محفوظ ہوجائیں۔ایک لطیف بات جو یاد رکھنے کے قابل ہے یہ ہے کہ اَعُوذُ کے لفظ سے پہلے قُل کا لفظ لایا گیا ہے۔قل کے بعد اعُوذُ لانے کا یہ مطلب ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس حکم کے مخاطب ہیں۔اور آعُوذُ کہنے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اول المخاطبین ہے۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ کہلوایا کہ تم لوگوں کو کہ دو کہ میں جس مقام ترقی پر پہنچ چکا ہوں اس کے باوجود میں بھی رَبُّ القلق کی پناہ مانگتا ہوں۔تو امتِ مسلمہ کے افراد اعُوذُ کی اہمیت کو زیادہ عمدگی سے سمجھ سکتے تھے۔اس عظیم الشان انسان کے منہ سے اَعُوذُ کہلوا کر جو کمالات روحانیہ کا نقطۂ مرکزی ہے اس 1110