نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 102 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 102

سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ عبادت کے معنے اصل میں اطاعت کے ہی ہیں اور ہر قابل اطاعت چونکہ تعظیم کا مستحق ہوتا ہے اس لئے اس کے معنے عظمت اور عزت کے بھی ہیں۔إيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا کلمہ خالص توحید کی طرف راہ نمائی کرتا ہے کہ خدا تک پہنچنے کے واسطےصرف خدا کو ہی ذریعہ بنایا جاوے اور اس کلمہ کا قائل یہ اقرار کرتا ہے کہ وہ خداشناسی کا مرحلہ طے کرنے کے واسطے کسی اور شے کو ذریعہ نہیں بناتا۔نہ کسی بت کو۔یہ مخلوق کو۔نہ عقل کو۔نہ علم کو۔اور اپنی ہر ایک احتیاج کے واسطے وہ خدا ہی کی طرف رجوع کرتا ہے۔( البدر 16 جنوری 1903 ، صفحہ 95) نماز میں ہر روز محبوب حقیقی جامع جمیع کمالات، رحمن رحیم ، حضرت رب العالمین، مالک یوم الدین کی تعریف کر کے آپ پڑھا کرتے ہو۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے معنی ہیں تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور کریں گے۔یہ دعویٰ سب مسلمان رات دن کئی بار خداوند عالم سے کرتے ہیں۔پیارے دیکھ اس دعویٰ میں ہم کس قدر سچے ہیں ؟ رات کو سور ہے۔چار پہر تین پہر سوتے رہے۔صبح کو اٹھے پاخانے گئے۔وہاں سے آئے باتیں کیں۔پھر کھانے کی فکر میں لگے۔روٹی کھائی۔پھر کچہری میں دنیا کمانے کو گئے۔پھر جو جو کام وہاں کرتے ہیں اس کو ہم ہی خوب جانتے ہیں۔پھر آئے۔ہوا خوری - کوچه گردی۔سیر بازار۔گھر آئے۔بال بچہ میں لگ گئے۔لیاقت و استعداد پر الف لیلہ۔فسانہ آزاد۔کفارسیان وغیرہ وغیرہ پڑھنے بیٹھ گئے۔بتاؤ یہی ايَّاكَ نَعْبُدُ کا مطلب ہے؟ پھر اگر کوئی بہت بڑا نیک ہوا تو پنجگانہ نماز بھی درمیان میں پڑھ لی۔پھر اس میں ریا، شمعة ، سستی ، کاہلی ، تاخیر وقت ، نقصان سجود، رکوع، قومہ،جلسہ وقراءت ہوتا ہے۔جو منصف ہے اسے خوب جانتا ہے۔بھلا پیارے یہ معنی اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے ہوں گے؟ نہیں نہیں۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کو ہر ایک کام میں اور بات میں رضامندی جناب باری تعالیٰ کی مد نظر رکھنی چاہئے۔نوکری کریں مگر اس نیت پر کہ روپیہ حاصل کر کے صلہ رحمی کریں گے۔ماں کو ، بہن کو بھائی ، بھانجا بھتیجا وغیرہ کو دیں گے۔صلہ رحمی سے رب تعالیٰ راضی ہوگا۔جہاں 102