نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1042 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1042

مانگے آپ اس کو عطا کر دیں لیکن آپ صفت مالکیت کے مظہر نہ بنیں تو آپ کی صفتِ رحمانیت کیا جلوہ دکھا سکتی ہے۔رحیمیت کی صفت اختیار کریں ، ربوبیت کی اختیار کریں جو چاہیں کریں اگر صفت مالکیت کا شرف حاصل نہ ہو تو یوں معلوم ہوتا ہے ہر صفت اپنی ذات میں سکڑ کر رہ گئی ہے اس میں کوئی بھی طاقت نہیں رہی۔پس جب خدا تعالیٰ کے بندے خدا کی خاطر ربوبیت اختیار کرتے ہیں ، رحمانیت اختیار کرتے ہیں اور رحیمیت اختیار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریوں پر رحم فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو! میرے بندے میرے جیسا بنے کی کوشش کرتے ہیں ، میرے حسن کی صرف زبان سے تعریف نہیں کرتے بلکہ عمل کو بھی میری صفات کے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بچارے مجبور ہیں ان کے پاس کچھ طاقت نہیں ہے کہ وہ میرے جیسا بن سکیں۔تب خدا کی صفت مالکیت جوش میں آتی ہے اور وہ ان کو درجہ بدرجہ مالکیت میں شامل کر لیتی ہے اور اس مقام پر سب سے زیادہ حضرت محمد مصطفی صلیم نے اللہ تعالی سے مالکیت کی صفات پائیں۔نہ صرف خود یہ صفات پائیں بلکہ اپنے غلاموں کو بھی عطا کیں چنانچہ آنحضرت علا السلام نے جب یہ فرمایا کہ عسى رُبَّ اشْعَكَ أَغْبَرَ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَابَرَهُ (مستدرك حاكم جلد 4 صفحه 364 - الجامع الصغير للسيوطى الجزء الثانى باب الراء) تو اسی مضمون کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔تم میرے مقام کو سمجھنا چاہتے ہو تو تمہاری عقلیں ، تمہارا علم ، تمہاری فراست اور تمہارا ادراک کوتاہ ہے تم اس تک نہیں پہنچ سکتے۔تم میرے غلاموں کی شان دیکھو۔ان میں سے ایسے بھی ہیں جن کے بالوں میں خاک اڑ رہی ہوتی ہے جن کا حال پراگندہ ہوتا ہے لیکن جب وہ خدا پر قسم کھا لیتے ہیں کہ خدا کی قسم یہ واقعہ ہوگا تو خدا ایسا واقعہ ضرور کر دیا کرتا ہے۔اس کو کہتے ہیں مالکیت میں شامل کر دینا۔تو صفت مالکیت ایسی نہیں ہے جو آپ اپنی ذات سے یا اپنی کوشش سے اختیار کر سکیں۔انسان کے پاس کچھ نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ربوبیت رحمانیت اور رحیمیت کی توفیق بھی 1042