نُورِ ہدایت — Page 1036
غور کرو گے اس کی صفات پر غور کرو گے تو پھر تمہارے دل سے یہ دعا نکلنی چاہئے کہ اے خدا! جہاں بدیوں کا بائیکاٹ ہو جائے ، نہ وہ ہم سے لیں نہ ہم ان سے لیں ، وہاں حمد دونوں طرف سے بہنے لگے۔وہ اپنی خوبیاں لے کر ہمارے اندر داخل ہوں اور ہم اپنی خوبیاں ان کے اندر داخل کر رہے ہوں اور ایک عظیم الشان قوم وجود میں آ رہی ہو۔تو اسلامی فتح کا یہی وہ تصور ہے جسے احمدیوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے کیونکہ مجھے ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ انشاء اللہ بہت جلد فوج در فوج لوگ احمدیت میں داخل ہونے والے ہیں اور مشرق بعید میں خدا تعالیٰ نے نئی فتح کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ایسے دلوں میں انقلاب برپا ہو رہے ہیں کہ وہ سننے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔جب اسلام کا پیغام سنتے ہیں تو شکوے کرتے ہیں اور کہتے ہیں تم لوگ پہلے کہاں تھے، ہمارے پاس کیوں نہیں آئے۔اس لئے میں نے سوچا کہ اس فتح نے تو آنا ہی آنا ہے۔اب یہ خدا کی تقدیر ہے جو لکھی گئی۔کوئی نہیں جو اس تقدیر کو بدل سکے۔آپ ان لوگوں کو محبت اور پیار کے ساتھ وصول کرنے کی تیاری کریں۔اپنے دل صاف کریں، اپنے اخلاق اور اطوار کو درست کریں، اپنے خیالات کو پاکیزہ بنائیں، اپنے اعتقادات کی حفاظت کریں، آپ پر بہت بڑی ذمہ داریاں پڑنے والی ہیں۔آپ ان کے میزبان بننے والے ہیں۔اس لئے بدیوں کے خلاف اپنے دفاع کو مضبوط کریں تا کہ جب ان نئی قوموں سے آپ کا وسیع طور پر تعلق قائم ہو تو ان کی بدیوں کو رڈ کرنے والے ہوں اور اپنی بدیوں کو پہلے دُور کر دینے والے ہوں یا استغفار کرتے ہوئے کم از کم ایسا انتظام کریں کہ وہ بدیاں ان میں داخل نہ ہوں۔پھر حمد کے ترانے گائیں۔اپنے اندر خوبیاں پیدا کریں۔اسلامی تعلیم پر عمل پیرا ہو کر اس دنیا میں جنت پیدا کریں۔اکثر لوگ مجھ سے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا وہ Utopia ( ٹیٹو پیا یعنی مثالی معاشرہ ) جولوگوں کے تصور میں ایک خواب ہے ایک کہانی ہے کہ دنیا میں ایک عظیم الشان سنہری زمانہ آ جائے گا جس میں ہر طرف امن ہو گا اور انسان اس جنت کو پالے گا جس کی خاطر غالباً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔تو میں ان سے کہا کرتا ہوں کہ وہ جنت تو قریب آ رہی ہے، وہ 1036