نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1030 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1030

ٹھوکر اور غلطیوں سے بچتے رہیں۔اور اگر کبھی کوئی رخنہ پیدا بھی ہو تو اس کی اصلاح کا سامان خدا تعالیٰ پیدا کرتار ہے۔گویا رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذات کے لئے استغفار کرنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ اپنی امت کے لوگوں کے لئے استغفار کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی سے آپ دُعا کریں کہ وہ آپ کی اُمت کی حفاظت فرمائے اور ان میں کوئی روحانی طور پر رخنہ نہ پڑے۔اور اگر کوئی خرابی پیدا ہو تو اس کی اصلاح کا سامان پیدا ہو جائے۔چنانچہ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کے مطابق دعا کرنی شروع کر دی اور واقعات بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس دُعا کو شرف قبولیت بخشا اور آپ کی وفات کے بعد جس قدر فتنے پیدا ہوئے ان کی اصلاح کر دی گئی اور آئندہ ایسا انتظام کر دیا گیا کہ ہر فتنے کے پیدا ہونے پر اس کی اصلاح ہو جائے۔اسلام کی فتوحات کے زمانہ میں جب کثرت سے عیسائی لوگ مسلمان ہوئے تو وہ اپنے ساتھ حیات مسیح اور مسیح کے بے گناہ ہونے اور باقی تمام انسانوں کے (جن میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آجاتے ہیں) خطا کار ہونے کا عقیدہ بھی لے آئے اور وہ اتنا پھیلا کہ اس غلط فہمی کی وجہ سے عیسائیت کو اسلام پر حملہ کرنے کا موقع میل گیا اور مسلمان اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت میں داخل ہونے شروع ہو گئے۔آخر اللہ تعالیٰ نے اس فتنے کے استیصال کے لئے اور امت کی حفاظت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چودہ سو سال بعد کھڑا کر دیا۔اور آپ کے ذریعہ اسلام کو ایسے مقام پر کھڑا کر دیا کہ کجاوہ حالت کہ وہ اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتا تھا اور مسلمان اسلام کو چھوڑ رہے تھے۔اور کجا یہ حالت پیدا ہوگئی کہ تمام مذاہب میدان سے بھاگ گئے اور اسلام عیسائیت پر حملہ آور ہو گیا اور غیر مذاہب کے لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہونے شروع ہو گئے۔اور وہ دن دور نہیں جبکہ ہر شخص اسلام کے ماڈی غلبہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اسلام کا ضعف اُس کی طاقت میں تبدیل ہو جائے گا۔پس یہ سب کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار اور دعا کا نتیجہ ہے۔1030