نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1029 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1029

ہزاروں ہزار لوگ اسلام میں ایک وقت میں داخل ہوا کریں گے۔اور یہ ظاہر ہے کہ جب کسی قوم کو فتح حاصل ہوتی ہے اور مفتوح قوم کے ساتھ فاتح قوم کے تعلقات قائم ہوتے ہیں تو ان میں جو بدیاں اور برائیاں ہوتی ہیں وہ فاتح قوم میں بھی آنی شروع ہو جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فاتح قوم جن ملکوں سے گزرتی ہے ان کے عیش و عشرت کے جذبات اپنے اندر لے لیتی ہے اور چونکہ عظیم الشان فتوحات کے بعد اس قدر آبادی کے ساتھ فاتح قوم کا تعلق ہوتا ہے جو فاتح سے بھی تعداد میں زیادہ ہوتی ہے۔اس لئے اس کو فوز اتعلیم دینا اور اپنی سطح پر لانا مشکل ہوتا ہے۔اور جب فاتح قوم کے افراد مفتوح قوم میں ملتے ہیں تو بجائے اس کو اخلاقی طور پر نفع پہنچانے کے خود اس کے بداثرات سے متأثر ہو جاتے ہیں۔جس کا نتیجہ رفتہ رفتہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔اور در حقیقت جس وقت کوئی قوم ترقی کرتی اور کثرت سے پھیلتی ہے وہی زمانہ اس کے تنزل اور انحطاط کا بھی ہوتا ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان فتوحات کی خبر کو معلوم کر کے طبعی طور پر متفکر ہو سکتے تھے۔کہ ان فتوحات کے ساتھ ساتھ کہیں مسلمانوں میں انحطاط تو شروع نہ ہو جائے گا اور وہ لوگ جو اسلام میں نئے داخل ہوں گے ان کی پوری طرح تربیت کا کیا سامان ہوگا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کامل استاد اور نفوس کا تزکیہ کرنے والا اور کامل راہنما ان کو میسر نہ ہوگا۔پس ان خیالات کے جواب کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اِسْتَغْفِرُهُ کے الفاظ نازل فرمائے اور بتایا کہ اے محمد رسول اللہ ! جب تک آپ دنیا میں رہے آپ نے اپنی ذمہ داری کو ادا کیا اور تربیت اور تزکیہ نفوس کا کام کرتے رہے۔لیکن جب آپ مہمارے پاس آ جائیں گے تو آپ کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ خود امت محمدیہ کا کفیل ہو جائے گا۔ایسی صورت میں آپ کو فکر کی کیا ضرورت ہے۔ہاں آپ وہ کام کریں جو آپ کی استطاعت میں ہے۔اور وہ یہ کہ آپ دُعاؤں میں لگ جائیں اور اللہ تعالیٰ سے التجا کریں کہ وہ نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کی حفاظت کرے اور ان کی نصرت کرتا رہے بلکہ اسلام میں نئے داخل ہونے والوں کی بھی خود ہی تربیت کا سامان کرے اور ایسی صورت پیدا کر دے کہ تمام مسلمان 1029