نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1020 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1020

صفات سلبیہ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے تمام نقائص سے پاک اور منزہ ہ ہونا اور اعلیٰ و برتر ہونا ظاہر کرتی ہیں۔سلبیہ کے معنے سلب کرنے والی کھینچنے والی۔اور صفات ثبوتیہ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اکرام اور عزت اور بلندی کا اظہار کرتی ہیں۔اس ترتیب میں صفات سلمیہ کا پہلے ذکر کیا گیا ہے اور صفات ثبوتیہ کو ان کے بعد لیا گیا ہے۔تسبیح اللہ تعالی کی جلالی صفات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ تمام بدیوں سے منزہ ہ اور بے عیب اور پاک ذات ہے۔تم بھی اس کی تسبیح کرو۔یعنی اس کا مقدس اور پاک ہونا بیان کرو۔اور اس کی تحمید کرو کہ وہ تمام حمد کا مالک ہے اور سچی تعریف اسی کے لائق ہے۔اس کے بعد استغفار ہے جو کہ انسان کو اپنے قصور نفس اور کمزوری کی طرف تو حجہ دلاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی بخشش کی طرف انسان کو کھینچتا ہے کہ اس کے سوائے انسان کا گزارہ نہیں اور انسان کے نفس کو کامل کرنے والی وہی ذات پاک ہے جس کے ساتھ بچے اور خالص تعلق کے ذریعہ انسان بدیوں سے نجات پاسکتا ہے اور نیکیوں کے حصول کی اس کو توفیق ملتی ہے۔حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ سب سے آخر جو سورۃ به تمام و کمال اور پوری اتری وہ یہی سورۃ النصر ہے۔اس کے بعد کوئی پوری سورۃ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل نہیں ہوئی۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ یہ سورۃ ربع قرآن ہے۔یعنی قرآن شریف کی چوتھائی کے برابر ہے۔یہ فضیلت بلحاظ اس شاندار پیشگوئی کے معلوم ہوتی ہے جس پر وہ مشتمل ہے۔اور بلحاظ ان احکام تسبیح اور تحمید اور استغفار کے ہے جو کہ انسان کو اپنے کمال تک پہنچانے کے واسطے کمال درجہ کے ہتھیار ہیں۔اسی سورۃ شریف نے کفار مکہ کو با وجود ایسی سخت بغاوتوں اور سرکشیوں کے اور اذیت رسانیوں کے فتح مکہ کے وقت ہر طرح کے عذاب سے بچا لیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خُلق عظیم کے ساتھ سب کو معاف کر دیا اور فرما يالَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۔بلکہ ان کے گناہوں کے واسطے خدا تعالیٰ کے حضور میں معافی چاہی۔کیونکہ آستغْفِرُ اللہ کا لفظ اسی امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کے حضور میں گناہگاروں کے واسطے شفاعت کریں اور ان کو عذاب میں گرنے سے بچاویں۔1020