نُورِ ہدایت — Page 1021
یہ اللہ تعالیٰ کی فتح و نصرت کا وعدہ اور قوموں کے فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے کی پیشگوئی جو اس سورۃ شریف میں کی گئی ہے۔اگر چہ اس کے پورا ہونے کا ابتدا آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا۔تا ہم چونکہ مذہب اسلام ہمیشہ کے واسطے ہے۔اس واسطے ظلمی طور پر جب کبھی ضرورت ہو یہ وعدہ پورا ہوتا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی جبکہ اسلام بہت ضعیف ہے خدا تعالیٰ نے اپنے ایک فرستادہ کے ذریعہ سے یہ خوشخبری دوبارہ سنائی ہے کہ اس کی طرف سے اسلام کے واسطے فتح ونصرت کا وقت پھر آ گیا ہے اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں گے اور پھر اسلامیوں میں وہی روحانیت پھونکی جائے گی۔مبارک ہیں وہ جو تکبر نہ کریں اور خدا کے کام کی عزت کریں تا کہ ان کے واسطے بھی عزت ہو۔اے خدا ہمارے گناہوں کو بخش اور اپنے وعدوں کو پورا کر کہ تو سچے وعدوں والا ہے۔اسلام کی عزت کو دنیا میں قائم کر دے اور اسلام کے دشمنوں کو ذلیل اور پست اور بلاک کر دے خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی۔کیونکہ اب تیری قدرت نمائی کا وقت ہے اور تو بڑی طاقتوں والا خدا ہے۔آمین ثم آمین۔اس سورہ شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انجام کو ظاہر کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَسَبِّحْ بحمد ربك۔اللہ کی تسبیح کرو، اس کی ستائش اور حمد کرو، اور اس سے حفاظت طلب کرو۔استغفار یا حفاظتِ الہی طلب کرنا ایک عظیم الشان سر" ہے۔انسان کی عقل تمام ذاتِ عالم کی محیط نہیں ہوسکتی۔اگر وہ موجود ضروریات کو سمجھ بھی لے تو آئندہ کے لئے کوئی فتوی نہیں دے سکتی۔اس وقت ہم کپڑے پہنے کھڑے ہیں۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ ہی کی حفاظت اور فضل کے نیچے نہ ہوں اور محرقہ ہو جاوے تو یہ کپڑے جو اس وقت آرام دہ اور خوش آئندہ معلوم ہوتے ہیں ناگوار خاطر ہو کر موذی اور مخالف طبع ہو جاویں اور وبالِ جان سمجھ کر ان کو اتار دیا جاوے۔پس انسان کے علم کی تو یہ حد اور غایت ہے۔ایک وقت ایک چیز کو ضروری سمجھتا ہے اور دوسرے وقت اسے غیر ضروری قرار دیتا ہے۔اگر اسے یہ علم ہو کہ سال کے بعد اسے کیا ضرورت ہوگی؟ مرنے کے بعد کیا ضرورتیں پیش آئیں گی؟ تو البتہ کہ سکتے ہیں کہ وہ بہت کچھ انتظام کرے۔لیکن جب قدم قدم پر لاعلمی کے باعث ٹھوکریں کھاتا ہے۔پھر حفاظتِ الہی کی ضرورت نہ سمجھنا 1021