نُورِ ہدایت — Page 94
ان لوگوں نے مسیح کو نصف خدائی کا دعویدار بنا دیا ہے۔ایسا ہی انہوں نے دجال کی نسبت مان رکھا ہے کہ وہ مُردوں کو زندہ کرے گا اور یہ کرے گا اور وہ کرے گا۔افسوس قرآن تو ا اله الا اللہ کی تلوار سے تمام اُن باطل معبودوں کو قتل کرتا ہے جن میں خدائی صفات مانی جائیں پھر یہ دنبال کہاں سے نکل آیا ہے۔سورۃ فاتحہ میں یہودی اور عیسائی بننے سے بچنے کی دعا تو سکھلائی کیا دجال کا ذکر خدا کو یاد نہ رہا جو اتنا بڑا فتنہ تھا؟ الحکم جلد 5 نمبر 3 مؤرخہ 24 /جنوری 1901 ، صفحہ 5) یہ جوئیں نے ضالین کہا ہے تو اس سے مراد عیسائی اور پادری ہیں۔انگریز اس سے مراد نہیں کیونکہ انگریز تو اکثر ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے ساری عمر میں ایک دفعہ بھی انجیل پڑھی ہوئی نہیں ہوتی۔ان پادریوں پر اسلام ایک بڑا بھاری صدمہ ہے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کو وہ مغلوب نہیں کر سکتے۔یہ جو میں نے ضائین کا ذکر کیا ہے تو اس سے مراد یہی پادری لوگ ہیں جو نہ صرف خود گمراہ ہیں بلکہ اوروں کو گمراہ کرنے میں بھی پوری ہمت اور کوشش سے کام لیتے ہیں۔اور یہ جو حدیثوں میں دجال کا ذکر آیا ہے تو اس سے مراد ضالین ہی ہیں اور اگر دجال کے معنے ضالین کے نہ لئے جاویں تو ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے ضالین کا ذکر تو قرآن شریف میں کر دیا بلکہ ان کے فتنہ عظیم سے بچنے کے لئے دعا بھی سکھا دی مگر دنبال کا ذکر تک بھی نہ کیا۔حالا نکہ وہ ایک ایسا عظیم فتنہ تھا جس سے لکھوکھہا لوگ گمراہ ہو جاتے تھے۔غرض سچی بات یہی ہے کہ دجال اور ضالین ایک ہی گروہ کا نام ہے جولوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں اور اس آخری زمانہ میں اپنے پورے زور پر ہیں اور ہر ایک طرح کے مکر اور فریب سے خلقت کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے پھرتے ہیں۔اور چونکہ دجال کے معنے بھی گمراہ کرنے والے کے ہیں اسی واسطے احادیث میں یہ لفظ ضالین کی بجائے بولا گیا ہے۔اور احادیث میں ضالین کی بجائے دجال کا لفظ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا 94