نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 998 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 998

وَلَا أَنْتُمْ عَبدُونَ مَا أَعْبُدُ۔اور نہ ہی تم اپنے رسم و رواج ، جتھے اور خیالات ، اپنے بتوں اور مہنتوں کو چھوڑتے نظر آتے ہو۔تو اچھا۔پھر ہمارا تمہارا یوں فیصلہ ہوگا کہ لكُم دِينَكُمْ وَلِى دِينِ۔میرے اعمال اور عقائد کا نتیجہ میں پاؤں گا اور تمہارے بدکردار اور عقائد فاسدہ کی سزا تم کو ملے گی۔پھر اُس وقت پتہ لگ جاوے گا کہ کون صادق اور کون کا ذب ہے۔اس کا جو نتیجہ نکلا وہ دنیا جانتی ہے۔ہر ایک نے سُن لیا ہوگا کہ آنحضرت دنیا سے کس حالت میں اٹھائے گئے اور آپ کے اتباع کو دنیا میں کیا کچھ اعزاز اور کامیابی نصیب ہوئی اور آپ کے وہ دشمن کہاں گئے اور ان کا کیا حشر ہوا۔کسی کو ان کے ناموں سے بھی واقفیت نہیں۔بس یہی نمونہ اور مابہ الامتیا ز ہمیشہ کے واسطے صادق اور کاذب میں خدا کی طرف سے مقرر ہے۔ماخوذ از حقائق الفرقان زیر تفسیر سورة الفيل ) حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے قُلْ هُوَ الله احد قرآن شریف کے تیسرے حصہ کے برابر ہے اور قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَفِرُونَ قرآن کے چوتھے حصہ کے برابر ہے اور آپ کئی دفعہ صبح کی دورکعتوں میں یہ دوسورتیں پڑھا کرتے تھے۔اس حدیث کا یہ بھی مطلب نہیں کہ قرآن کریم کے تیسرے حصہ کے برابر قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ہے اور چوتھے حصہ کے برابر قُلْ يَا أَيُّهَا الكَفِرُونَ ہے۔کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو باقی قرآن کے نازل ہونے کی ضرورت کیا تھی؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ صداقتیں اپنی جڑ کے لحاظ سے بہت مختصر ہوتی ہیں۔مثلاً اگر مذہب کا خلاصہ نکالا جائے تو اتنا ہی ہوگا کہ خدا تعالیٰ سے محبت اور بندوں سے شفقت۔یہی قرآن کریم سے اور حدیثوں سے دین کا خلاصہ معلوم ہوتا ہے۔اب اگر کوئی شخص کہہ دے کہ بندوں پر شفقت آدھا دین ہے تو اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ اس فقرہ کے بعد آدھے 998