نُورِ ہدایت — Page 990
حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سورۃ کافرون مگی ہے۔طبرانی اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قریش نے ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ ہم آپ کو اتنا مال دیتے ہیں کہ آپ مکہ میں سب سے بڑے دولتمند ہو جائیں۔اور جس عورت کو آپ پسند کریں اس کے ساتھ آپ کا نکاح کر دیتے ہیں۔یہ سب کچھ آپ لے لیں اور ہمارے معبودوں کی برائی بیان کرنے سے رُک جائیں اور ان کو بدی کے ساتھ یاد نہ کریں۔اور اگر آپ کو یہ بات منظور نہیں تو ہم ایک اور بات پیش کرتے ہیں اور اس میں آپ کی بہتری ہے۔آنحضور نے فرمایا۔بتاؤ وہ کیا ہے؟ تو کہنے لگے۔ایسا کرو کہ ایک سال آپ ہمارے بتوں کی پوجا کرو۔اور پھر ایک سال ہم آپ کے معبود کی پرستش کریں گے۔حضرت نے فرمایا۔ٹھہر جاؤ۔اس کا جواب میں خدا سے پا کر تم کو بتلاؤں گا۔پس یہ وحی الہی نازل ہوئی۔لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ لا أعبد میں تمہارے بتوں کی نہ اب پوجا کرتا ہوں اور نہ آئندہ کروں گا۔اس جگہ بتوں کی عبادت کی نفی حرف لا کے ساتھ کی گئی ہے۔کیونکہ حرف لا کی نفی حال اور استقبال ہر دو پر مشتمل ہے۔نہ اب اور نہ آئندہ۔مَا تَعْبُدُونَ۔جو کچھ تم عبادت کرتے ہو۔ما اسم مبہم ہے۔اور مشرکوں کے معبودوں کے ابہام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔کیونکہ مشرک اپنی خواہش بے جا کے سبب خود اپنے اندر ایک شک وشبہ میں پڑا ہوا ہے۔اور ہر روز نیابت اپنے لئے تراشتا ہے۔۔۔۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ طیب اور مبارک کے متعلق غیر اللہ کی عبادت سے بیزاری اس جگہ حال اور مستقبل میں دو بار کر کے جو بیان کی گئی ہے اس میں اشارہ ہے کہ 990