نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 984 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 984

اللہ تعالیٰ نے اس وقت اہل مکہ کو ادنیٰ سے ادنی خوف سے بھی بچایا اور ابرہہ کو وہیں مار دیا۔بعضوں نے کہا ہے کہ آمَنَهُم مِّنْ خَوْفِ میں اس قحط کی طرف اشارہ ہے جو رسول کریم علیم کے زمانہ میں پڑا۔احادیث میں آتا ہے کہ جب قریش مکہ نے رسول کریم عالم کو بہت تنگ کیا اور سخت تکالیف پہنچائیں تو آپ نے دعا فرمائی کہ اللهُم خُذْهُمُ بِسَنِينَ كَسَنِى يُوسُفَ یعنی اے اللہ تو ان لوگوں کو ویسے ہی پکڑ جیسے یوسف کے زمانہ میں تو نے لوگوں کو قحط سے پکڑا تھا۔اس پر مکہ میں ایک شدید قحط پڑا۔آخر وہی لوگ جو رسول کریم علیم کے شدید مخالف تھے انہوں نے آپ سے دعا کی درخواست کی۔چنانچہ آپ نے دعا کی جس پر کچھ اردگرد کے علاقہ میں بارشیں ہو گئیں۔کچھ حبشہ کی حکومت نے وہاں غلہ بھجوا دیا اور اس طرح قحط دُور ہوا۔پس بعض لوگ کہتے ہیں کہ امنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ میں اسی قحط کی طرف اشارہ ہے۔مگر یہ درست نہیں۔اس لئے کہ واقعات سے یہ ثابت ہے کہ یہ سورۃ نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور وہ قحط جو مکہ میں پڑا وہ شعب ابی طالب میں محصور ہونے کے وقت پڑا۔پس یہ آیت جب پہلے نازل ہو چکی تھی تو قحط کا اس کے ساتھ تعلق کیا ہوا۔یہاں تو اللہ تعالیٰ ان پر حجت کرتا ہے کہ اس نے ان کے خوف کو امن سے بدل دیا۔جو چیز بھی ظاہر ہی نہیں ہوئی تھی وہ ان کے لئے حجت کس طرح ہو سکتی تھی۔بہر حال اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے خالی سفروں کی طرف اشارہ نہیں۔چنانچہ جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی تھی تو اس وقت آپ نے ایک دعا فرمائی تھی جس کا اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں ذکر فرماتا ہے۔وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَيَنِيَّ أَنْ نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ - اسی طرح آپ نے یہ دعا کی تھی کہ رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمُ وَارْزُقْهُمْ 984