نُورِ ہدایت — Page 977
للناس یہ سب سے پہلا گھر تھا جو سب دنیا کے فائدہ کے لئے بنایا گیا تھا۔یہ ظاہر ہے کہ پرانے زمانے کے قومی مذہب ایسا گھر نہیں بنا سکتے جو سب دنیا کے لئے ہو۔ایسا گھر خدا تعالی ہی کی طرف سے اور اسی کے الہام سے مقرر کیا جا سکتا ہے۔اس کے بعد زمانہ ابراہیمی میں پھر خدا تعالیٰ کے الہام کے مطابق اس کی عمارت کی تجدید ہوئی۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں خدا کے لئے اس گھر کو بناتا ہوں اور اس لئے بنا تا ہوں کہ یہاں لوگ آئیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، اس کے گھر کا طواف کریں، عبادت اور ذکر الہی میں اپنا وقت بسر کریں اور آنے والوں کی خدمت کریں۔پھر انہوں نے دعا کی کہ خدایا تو بھی اس گھر کو امن دیجیئو اور اس کے رہنے والوں کو اپنے پاس سے رزق دیجیئو اور پھر ان میں سے ایک نبی پیدا کیجیئو جو انہیں تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے۔انہیں کتاب اور حکمت سکھائے۔اور ان کے نفوس کا تزکیہ کرے۔یہ دعا تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی بنیا د ر کھتے وقت کی۔اُس وقت کی جب خانہ کعبہ کی ترقی کے کوئی آثار نہ تھے۔اس وقت کی جب اس کی آبادی کے کوئی آثار نہ تھے۔اُس وقت کی جب وہ محض ایک وادی غیر ذی زرع تھے۔اُس وقت کی جب اس میں پانی کا ایک گھونٹ اور گندم کا ایک دانہ بھی موجود نہیں تھا۔پس اس کے بعد خانہ کعبہ کی جو کچھ ترقی ہوئی اسے یقیناً ہم اس دعا اور پیشگوئی کی طرف منسوب کریں گے اور کہیں گے کہ یہ سلوک محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔اس کے مقابلہ میں دنیا میں بیشک لاکھوں مندر موجود ہیں مگر کیا ان میں سے کوئی ایک مندر بھی ایسا ہے جس کی ترقی کسی پیشگوئی کے ماتحت ہوئی ہو؟ یا کیا ان مندروں میں سے کوئی ایک مندر بھی ایسا ہے جس کو مانے والے آج ہی اس قسم کی پیشگوئی دنیا میں شائع کرسکیں ؟ اگر ان میں ہمت اور طاقت ہے تو وہ ایسی پیشگوئی کریں اور پھر دیکھیں کہ اس کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔یوں کسی مندر کی عزت ہونا اور بات ہے اور پیشگوئی کے ماتحت عزت ہونا اور بات ہے۔اگر ایک شخص کسی مجلس میں بیٹھے ہوئے قبل از وقت کہہ دیتا ہے کہ ابھی زید آئے گا اور پھر 977