نُورِ ہدایت — Page 87
ان چار صفتوں کو پسند کرتا ہے ایسا ہی اپنے نفس کے لئے بھی یہی پسند کرے لہذا خدا نے سورۃ فاتحہ میں یہی تعلیم کی تھی جس کو اس زمانہ کے مسلمان ترک کر بیٹھے ہیں۔) تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحه 518، 519) اس سورۃ میں جس کا نام خاتم الکتاب اور اُمّ الکتاب بھی ہے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ انسانی زندگی کا کیا مقصد ہے اور اس کے حصول کی کیا راہ ہے؟ ايَّاكَ نَعْبُدُ گویا انسانی فطرت کا اصل تقاضا اور منشاء ہے اور وہ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے بغیر پورا نہیں ہوتا ہے لیکن اِيَّاكَ نَعْبُدُ کو اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر مقدم کر کے یہ بتایا ہے کہ پہلے ضروری ہے کہ جہاں تک انسان کی اپنی طاقت، ہمت اور سمجھ میں ہو خدا تعالیٰ کی رضامندی کی راہوں کے اختیار کرنے میں سعی اور مجاہدہ کرے اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں سے پورا کام لے اور اس کے بعد پھر خدا تعالیٰ سے اس کی تکمیل اور نتیجہ خیز ہونے کے لئے دُعا کرے۔( احکم جلد 8 نمبر 36 مورخہ 24 اکتوبر 1904، صفحہ 2۔احکم جلد 9 نمبر 11 مؤرخہ 31 مارچ 1905 ، صفحہ 5) إيَّاكَ نَعْبُدُ میں اگر چہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کو اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر تقدم ہے لیکن پھر بھی اگر غور کیا جاوے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت نے سبقت کی ہوئی ہے۔ايَّاكَ نَعْبُدُ بھی کسی قوت نے کہلوایا ہے اور وہ قوت جو پوشیدہ ہی پوشیدہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا اقرار کراتی ہے کہاں سے آئی؟ کیا خدا تعالیٰ نے ہی وہ عطا نہیں فرمائی ہے؟ بیشک وہ خدا تعالیٰ کا ہی عطیہ ہے جو اس نے محض رحمانیت سے عطا فرمائی ہے۔اس کی تحریک اور توفیق سے یہ إيَّاكَ نَعْبُدُ بھی کہتا ہے اس پہلو سے اگر غور کریں تو اس کو تاخر ہے اور دوسرے پہلو سے اس کو تقدم ہے۔یعنی جب یہ قوت اس کو اس بات کی طرف لاتی ہے تو یہ تاخر ہو گیا اور بصورت اول تقدم۔اسی طرح ہر سلسلہ نبوت کی فلاسفی کا خلاصہ یا مفہوم ہے۔الحکم جلد 9 نمبر 12 مؤرخہ 10 / اپریل 1905 ، صفحہ 5) بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں لذت نہیں آتی مگر میں بتلاتا ہوں کہ بار بار پڑھے اور کثرت کے ساتھ پڑھے تقویٰ کے ابتدائی درجہ میں قبض شروع ہو جاتی ہے اس وقت یہ کرنا 87