نُورِ ہدایت — Page 88
چاہئے کہ خدا کے پاس اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا تکرار کیا جائے۔شیطان کشفی حالت میں چور یا قزاق دکھایا جاتا ہے اس کا استغاثہ جناب الہی میں کرے کہ یہ قزاق لگا ہوا ہے۔تیرے ہی دامن کو پنجہ مارتے ہیں جو اس استغاثہ میں لگ جاتے ہیں اور تھکتے ہی نہیں وہ ایک قوت اور طاقت پاتے ہیں جس سے شیطان بلاک ہو جاتا ہے۔مگر اس قوت کے حصول اور استغاثہ کے پیش کرنے کے واسطے ایک صدق اور سوز کی ضرورت ہے۔اور یہ چور کے تصور سے پیدا ہو گا جو ساتھ لگا ہوا ہے وہ گویا ننگا کرنا چاہتا ہے اور آدم والا ابتلاء لانا چاہتا ہے۔اس تصور سے روح چلا کر بول اُٹھے گی۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔( محکم 17 فروری 1901 ، صفحہ 2) نمازوں میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا تکرار بہت کرو۔اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ خدا کے فضل اور گم شدہ متاع کو واپس لاتا ہے۔الحکم 10 نومبر 1902 ، صفحہ 12 ) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اگر نبی کے صرف یہ معنے کئے جائیں کہ اللہ جل شانہ اس سے مکالمہ و مخاطبہ رکھتا ہے اور بعض اسرار غیب کے اُس پر ظاہر کرتا ہے تو اگر ایک امتی ایسا نبی ہو جائے تو اس میں حرج کیا ہے خصوصاً جب کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ یہ امید دلائی ہے کہ ایک امتی شرف مکالمہ الہیہ سے مشرف ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اپنے اولیاء سے مکالمات اور مخاطبات ہوتے ہیں بلکہ اسی نعمت کے حاصل کرنے کے لئے سورہ فاتحہ میں جو پنج وقت فریضہ نماز میں پڑھی جاتی ہے یہی دعا سکھلائی گئی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ تو کسی امتی کو اس نعمت کے حاصل ہونے سے کیوں انکار کیا جاتا ہے۔کیا سورۃ فاتحہ میں وہ نعمت جو خدا تعالیٰ سے مانگی گئی ہے جو نبیوں کو دی گئی تھی وہ درہم و دینار ہیں۔ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السّلام کو مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کی نعمت ملی تھی جس کے ذریعہ سے اُن کی معرفت حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچ گئی تھی اور گفتار کی تجلی دیدار کے قائم مقام ہوگئی 88