نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 928 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 928

چونکہ مردار خور پرندوں کا یہ عام قاعدہ ہے کہ وہ مردہ کا گوشت لے کر پتھر پر بیٹھ جاتے ہیں اور گوشت کو بار بار پتھر پر مارتے جاتے اور کھاتے جاتے ہیں ، نہ معلوم اسے نرم کرتے ہیں یا اس کی صفائی کرتے ہیں۔بہر حال چیلوں اور گدھوں کا یہ عام قاعدہ ہے کہ وہ گوشت کو کھاتے ہوئے پتھر پر مارتے جاتے ہیں۔اس لئے یہی درست ہے کہ باء کے معنے اس جگہ پڑ کے لئے جائیں خصوصاً جبکہ یہ ثابت ہے کہ یہ لوگ چیچک سے مرے تھے اور ان کی لاشیں تمام میدان میں پھیل گئی تھیں۔پس آیت کا یہ مطلب ہے کہ مردار خور پرندے وہاں جمع ہو گئے اور انہوں نے ان کی بوٹیاں نوچ نوچ کر اور پتھروں پر مار مار کر کھانی شروع کر دیں۔باء کے معنے جو اس جگہ علی کے کئے گئے ہیں یہ لغت سے بھی ثابت ہیں اور استعمال قرآن سے بھی ثابت ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس تباہی کا نقشہ کھینچا ہے جو اصحاب الفیل پر آئی۔آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ چیلیں اور گدھ اور کوے اور دوسرے مُردار خور جانور جب کوئی بوٹی کھاتے ہیں تو کس طرح کھاتے ہیں۔وہ مردار کی بوٹی توڑ کر ایک طرف جا بیٹھتے ہیں اور پتھر پر بیٹھ کر کبھی اسے ایک طرف سے مارتے ہیں کبھی دوسری طرف سے۔اور اس طرح بار بار اس کو پتھر پر مارنے کے بعد کھاتے ہیں۔یہی کیفیت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ظاہر کی ہے اور بتایا ہے کہ جب ہم نے چیچک سے ان کو مار دیا تو چونکہ وہ ہزاروں ہزار تھے اس لئے مردوں کے ڈھیروں پر گروہ در گروہ اور جماعت در جماعت چیلیں اور گدھ اور کوے اور دوسرے مردار خور جانور ا کٹھے ہو گئے۔اور وہ بڑے بڑے جرنیل اور کرنیل جن کے اردگرد ہر وقت پہرے رہتے تھے اور جو بڑی بڑی اعلیٰ وردیاں پہن کر اکڑ اکڑ کر چلتے تھے ان کی بوٹیاں نوچ نوچ کر اور پتھروں پر مار مار کر کھانے لگے۔ملا اس کے بعد کیا ہوا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ۔اس نے انہیں دانہ کھائے ہوئے سٹے کی طرح کر دیا۔جس طرح اندر سے گندم کو کیڑا کھا جائے اور اوپر کا 928