نُورِ ہدایت — Page 927
جماعت در جماعت اور گروہ در گروہ پرندے آئے۔یہ لفظ انسانوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور حیوانوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور پرندوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔اگر گروہ در گروہ گھوڑے کسی جگہ کھڑے ہوں تو ان کے متعلق بھی ابابیل کا لفظ استعمال کر لیا جائے گا۔چنانچہ عربی زبان کا یہ محاورہ ہے کہ جَاءَتِ الْخَيْلُ آبَابِيلَ جس کے معنے جَمَاعَاتٍ مِنْ ههنا وَهُهُنا کے ہیں۔یعنی جماعت در جماعت اور گروہ در گروہ گھوڑے آئے کچھ یہاں سے اور کچھ وہاں سے۔اسی طرح اگر انسانوں کا کوئی بہت بڑا لشکر جمع ہو تو اسے بھی ابابیل کہہ دیں گے اور مراد یہ ہوگی کہ بٹالین کے بعد بٹالین اور فوج کے بعد فوج آتی چلی گئی۔پھر اس کے ایک معنے جماعات عظام “ کے بھی ہوتے ہیں یعنی بڑی بڑی جماعتیں۔اور ابابیل کے معنے اَقَاطِيْعَ تَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضاً کے بھی ہوتے ہیں۔یعنی بڑے بڑے ٹکڑے جو ایک دوسرے کے بعد متواتر آتے چلے جائیں۔پس أَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْراً آبَابِیل کے یہ معنے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف پرندے بھیجے جماعت در جماعت۔کچھ یہاں سے کچھ وہاں سے۔وہ بڑے بڑے ٹکڑوں میں باری باری آتے تھے اور گروہ در گروہ تھے۔اس میں اسی طرف اشارہ ہے کہ چیچک سے اس لشکر میں سخت موت پڑی اور لاشیں میدان میں چھوڑ کر باقی لوگ بھاگ گئے اور چاروں طرف سے گدھ اور چیل آکر وہاں جمع ہو گئے تا ان کی لاشوں سے نوچ نوچ کر گوشت کھائیں۔تَرْمِهِمْ حِجَارَ يا من سجيل * سیچیل چکنی مٹی کے ڈلے کی طرح کے پتھر کو کہتے ہیں۔پس سیچیل کے معنے ہیں ایسا پتھر جو کئی پتھر کے ٹکڑوں اور مٹی کی تہوں سے بنا ہوا ہو یا پکی ہوئی مٹی کا پتھر جسے پنجابی زبان میں کھنگر کہتے ہیں۔تَرْمِيهِمُ بِحِجَارَةٍ مِن سجيل کے معنے عام محاورہ کے مطابق تو یہ ہیں کہ ان پر سجیل مارتے تھے۔لیکن اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ اُن کو سیٹجیل پر مارتے تھے۔اور 927