نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 914 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 914

ہے۔اب اسے فائدہ تو پہنچ گیا مگر کیا کوئی شخص اس وجہ سے کہ اس کے پیسہ سے دوسرے نے فائدہ اٹھا لیا ہے یہ کہے گا کہ وہ بڑے رحم کرنے والے انسان ہیں۔پس رحم کے معنوں میں صرف یہی بات شامل نہیں ہوتی کہ دوسرے کو فائدہ پہنچے بلکہ اس میں یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی نیت بھی ہو۔پس رحمن کا لفظ بول کر بعض زائد امور بیان کئے گئے ہیں جو اس لفظ کے بغیر ادا نہیں ہو سکتے تھے۔یعنی یہی نہیں کہا گیا کہ خدا نے ایسی چیزیں پیدا کی ہیں جن کے پیدا کرنے میں انسان کا دخل نہیں۔بلکہ خدا نے ان چیزوں کو پیدا ہی انسان کے فائدہ کے لئے کیا ہے اور اس نیت سے پیدا کیا ہے کہ انسان ان سے فائدہ اٹھائے۔رحِیم فعیل کے وزن پر ہے اور یہ وزن تو اتر اور لمبے زمانہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور رحمن فعلان کے وزن پر ہے اور وسعت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔رحیم کے معنے ہیں وہ جو بار بار نتائج پیدا کرتا ہے۔جب رحمانیت کے سامانوں سے انسان فائدہ اٹھالیتا ہے تو رحیم خدا اس کے بار بار نتائج پیدا کرتا ہے۔مثلاً انسان روٹی کھاتا ہے روٹی کھانے کا یہی نتیجہ نہیں ہوتا کہ پیٹ بھر جاتا ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں خون پیدا ہوتا ہے جو مہینوں اور سالوں انسانی جسم میں کام کرتا ہے۔اسی خون سے اس کے دماغ کو طاقت ملتی ہے اس کی نظر کو طاقت ملتی ہے۔اس کے ذہن کو طاقت ملتی ہے۔اس کے کانوں کو طاقت ملتی ہے جو مہینوں اور سالوں اس کے کام آتی ہے۔پھر اسی میں سے نطفہ پیدا ہوتا ہے جس سے اس کی نسل پیدا ہوتی ہے۔پھر اس نسل سے اگلی نسل اور اگلی نسل سے اور اگلی نسل پیدا ہوتی ہے۔گویا ایک ایک فعل تواتر سے نتائج پیدا کرتا ہے۔یہ رحیمیت ہے۔اگر دنیا میں صرف یہی سلسلہ ہوتا کہ جب کوئی شخص کام کرتا تو اسی وقت اس کا ایک نتیجہ پیدا ہوجاتا تو ہم اس کو بدلہ تو کہہ سکتے تھے جیسے مزدور مزدوری کرتا ہے تو اپنی اجرت لے لیتا ہے مگر ہم اسے رحیمیت نہیں کہہ سکتے تھے۔رحیمیت کی مثال ایسی ہی ہے جیسے پنشن ہوتی ہے۔لوگ ملازمت کرتے ہیں تو انہیں اس کا بھی ایک بدلہ مل رہا ہوتا تھا۔مگر اس کے ساتھ ہی ان کے کھاتے 914