نُورِ ہدایت — Page 912
کی کنجی اور اس کے ہر ٹکڑہ کے خدا کی طرف سے نازل ہونے کی ایک بین دلیل ہے۔بسم الله الرّحمنِ الرَّحِيمِ میں اسلامی عقیدہ کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی اس دنیا میں ہے وہ خدا کا ہے اور جو کچھ ہورہا ہے خدا کرتا ہے۔کوئی چیز خدا تعالیٰ کے اختیار سے باہر نہیں اور کسی بات میں خدا تعالیٰ کسی دوسرے کی امداد کا محتاج نہیں۔ہر چیز جو ماسوی اللہ ہے وہ خدا تعالیٰ کی محتاج ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ کچھ نہیں کرسکتی۔اسی کو عربی زبان میں تو گل کہتے ہیں۔یعنی اس عقیدہ کے مطابق انسانی عمل کا نام اسلامی اصطلاح میں تو کل ہے۔پس بسم اللہ الرحمن الرحیم میں توکل علی اللہ کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم خدا سے مدد مانگتے ہوئے ،ایسے خدا سے مدد مانگتے ہوئے جس نے سب کے سب سامان بغیر کسی محنت اور کوشش اور تدبیر کے مہیا کر کے دیتے ہیں اور جو ان سامانوں سے کام لینے پر پھر اچھے سے اچھا اور ہمیشہ اور بار بار نتیجہ خیز بدلہ دیتا ہے اس کام کو شروع کرتے ہیں۔یہ مختصراً ترجمہ ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم کا۔اور حقیقت یہ ہے کہ اگر اس کی تفسیر کی جائے تو اسی پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔گویا اس چھوٹی سی آیت میں یہ پیش کیا گیا ہے کہ حال خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔کیونکہ جب انسان کہتا ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میں خدا سے مدد مانگتا ہوں۔تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ زمانہ جس میں میں ہوں اور کام کرنا چاہتا ہوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اگر حال خدا تعالیٰ کے اختیار میں نہیں تو وہ مدد کس سے مانگتا ہے۔مدد اسی سے مانگی جاتی ہے جس کے قبضہ و تصرف میں حال کا زمانہ ہو۔پس اگر میں کام کرتے ہوئے خدا تعالیٰ سے مدد مانگتا ہوں تو درحقیقت میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں خدا تعالیٰ کو طاقت حاصل ہے۔پھر الرحمن کا لفظ آتا ہے۔یعنی میں اس سے مدد مانگتا ہوں جو رحمن ہے۔رحمن کے معنے ہیں بغیر کوشش محنت اور خدمت کے ہر قسم کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا۔گویا رحمانیت کے ماتحت وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو غیر کسی محنت اور کوشش کے انسانوں کو ملتی ہیں۔رحمانیت میں آسمان کی پیدائش بھی شامل 912