نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 83 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 83

دن) ڈھلنا ہے۔جیسا کہ تمہیں معلوم ہے جب سیلاب کسی مستحکم پہاڑ تک پہنچتا ہے ( و ہیں) رُک جاتا ہے اور رات جب پو پھٹنے کے قریب پہنچتی ہے (اس کی تاریکی خود بخود ) چھٹ جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تنفّس (التکویر 18-19) پس اللہ تعالیٰ نے رات کے اندھیروں کی انتہا کے بعد صبح کے ظہور کو ایک لازمی امر قرار دیا ہے۔اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے قول يَأَرْضُ ابْلَعِي (هود 45) سیلاب کے کمال کو سیلاب کے زوال کی علامت قرار دیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ مومنوں پر ان کا پہلا زمانہ لوٹا دے اور ان کو دکھائے کہ وہ ان کا رب ہے اور یہ کہ وہ رحمان اور رحیم ہے اور اس دن کا مالک ہے جب جزا سزا دی جائے گی اور اس میں مردوں کو ( زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔اس زمانہ میں تم محسن خدا کی ربوبیت اور انسانوں اور حیوانوں کے لئے اس کی ایسی رحمانیت نمایاں دیکھ رہے ہو جو اجسام سے تعلق رکھتی ہے اور تم پاتے ہو کہ اس نے کس طرح نئے نئے ذرائع اور مفید وسائل پیدا کئے ہیں۔ایسی صنعتیں جن کی مثال گذشتہ زمانوں میں نہیں دیکھی گئی ایسے عجائبات ( پیدا کئے ہیں ) جن کا نمونہ قرونِ اولیٰ میں نہیں پایا جاتا اور تمہیں اس زمانہ کی تمام چیزوں میں ایک جدت دکھائی دے رہی ہے جو مسافر یا قیام پذیر، سکونتی یا پردیسی، تندرست یا بیمار، جنگجو یا معاف کرنے والے صلح جو، قیام یا کوچ کی حالت اور تمام قسم کی نعمتوں اور مشکلات سے تعلق رکھتی ہے گویا آج دنیا مکمل طور پر بدل دی گئی ہے۔بیشک یہ عظیم ربوبیت اور اعلی رحمانیت ( کا فیض ) ہے اسی طرح تم دینی معاملات میں بھی ربوبیت، رحمانیت اور رحیمیت ( کے فیوض ) دیکھو گے۔یقیناً علوم الہیہ کے طالبوں کے لئے ہر بات آسان کر دی گئی ہے اور تبلیغ کا کام اور روحانی علوم کی اشاعت کا کام بھی آسان بنا دیا گیا ہے۔اور ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اور اس کی بارگاہ سے اطمینان ( قلب ) کا متلاشی ہے کھلی کھلی نشانیاں اتاری گئی ہیں۔چاند اور سورج کو رمضان کے مہینہ میں گرہن لگ چکا ہے۔اونٹنیاں بیکار کر دی گئی ہیں اور سوائے شاذ و نادر کے ان سے تیز رفتاری کا کام نہیں لیا جاتا۔کچھ عرصہ کے بعد تم مدینہ اور مکہ کے رستہ میں بھی نئی سواری دیکھ لو 83