نُورِ ہدایت — Page 84
گے اور علماء اور طلباء کے لئے کتابوں کی کثرت اور حصول علم اور معرفت کے بہت سے ذرائع مہیا کئے گئے ہیں۔مسجدیں آباد کی گئی ہیں اور عبادت گذاروں کی حفاظت کی گئی ہے اور امن اور دعوت وتبلیغ کے دروازے کھل گئے ہیں اور یہ سب رحیمیت ہی کا فیضان ہے۔پس ہم پر واجب ہے کہ ہم گواہی دیں کہ یہ وہ وسائل و ذرائع ہیں جن کی مثال پہلے زمانوں میں نہیں ملتی اور یہ ایسی توفیق اور آسانی میٹر آگئی ہے جس کی نظیر نہ کبھی کانوں نے سُنی اور نہ ہی اس کا نمونہ آنکھوں نے کبھی دیکھا پس تم ہمارے رب اعلیٰ کی رحیمیت ( کی شان ) ملاحظہ کرو۔یہ اسی کی رحیمیت ( کی ہی برکت) ہے کہ ہمارے لئے ممکن ہو گیا ہے کہ چند دنوں میں ہی اپنے مذہب کی اس قدر کتابیں طبع کر دیں جو اس سے قبل ہمارے بزرگ ( کئی ) سالوں میں بھی نہیں لکھ سکتے تھے۔اور اب ہمیں یہ بھی مقدرت ہے کہ ہم دور دور کے ملکوں کی خبریں ( چند ) گھنٹوں میں معلوم کرلیں جن کا حصول ہم سے پہلے لوگوں کے لئے سالہا سال تک اپنی جانوں کو مشقت میں ڈالنے اور بڑی کوشش کے بغیر ممکن نہیں ہوسکا۔یقیناً ہر بھلائی کے ( حاصل کرنے کے لئے ) ہم پر ربوبیت ، رحمانیت اور رحیمیت کے دروازے کھل گئے ہیں اور اس کے لئے اس قدر زیادہ راستے پیدا ہو گئے ہیں کہ ان کا شمار انسانی طاقت سے باہر ہے۔پہلے دعوت وتبلیغ کرنے والوں کو یہ ( آسانیاں ) کہاں میٹر تھیں؟ پس زمین ہماری خاطر خوب جھنجوڑی گئی ہے اور اس نے اپنے بوجھ ( یعنی خزانے) باہر نکال پھینکے ہیں۔نہریں جاری کی گئی ہیں۔دریا خشک کر دیئے گئے ہیں۔نئی نئی سواریاں نکل آئی ہیں اور اونٹنیاں بیکار ہوگئی ہیں۔ہمارے پہلوں نے ایسی نعمتیں نہیں دیکھی تھیں جو ہم نے دیکھی ہیں۔ہر قدم پر ایک ( نئی ) نعمت ( موجود ) ہے اور یہ نعمتیں ) حد شمار سے باہر ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی دلوں کی موت اور ان کی سختی بہت بڑھ گئی ہے گویا کہ تمام لوگ مر چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شناخت کرنے کی روح ان میں باقی نہیں رہی سوائے بہت کم لوگوں کے جو شاذ و نادر ہونے کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر ہیں پس ان صفات کے ظہور سے جن کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں اور ربوبیت، رحمانیت اور رحیمیت کی روشن نشانوں کی طرح حجتی سے اور پھر کثرت اموات اور 84