نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 898 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 898

دعوی یہ ہے کہ میں وہ شخص ہوں جس کے ظہور کے لئے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھتے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعائیں کی تھیں تم کہتے ہو کہ یہ غریب ہے کمزور ہے، ناطاقت ہے اور ہم بڑے دولتمند ہیں یہ ہمارے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا۔تمہیں سمجھنا چاہئے کہ خانہ کعبہ کی قیمت زیادہ ہے یا محمد رسول اللہ علیم کی قیمت زیادہ ہے۔خانہ کعبہ کی تو بنیاد ہی اسی لئے رکھی گئی تھی کہ محمد رسول اللہ میں ظاہر ہوں۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت جو دعا کی اس میں کھلے طور پر یہ الفاظ آتے تھے کہ وَابْعَثُ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمُ (البقرۃ 130) پس خانہ کعبہ قائم ہی اسی لئے کیا گیا تھا کہ تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کرنے والا نبی اس جگہ پیدا ہو۔اگر علامت کے لئے خدا نے یہ نشان دکھایا تھا کہ اس نے ابرہہ اور اس کے لشکر کو تباہ و برباد کر دیا تو تم سمجھ لو کہ اس مقصود کے لئے وہ کتنا بڑا نشان ظاہر کرے گا۔جب ایک علامت کے لئے اس نے اصحاب الفیل کو تباہ کر دیا تو وہ چیز جو مقصود بالذات ہے اس کے لئے تو وہ جتنی بھی غیرت دکھائے کم ہے۔حالانکہ اصحاب الفیل کو جو طاقت حاصل تھی وہ مکہ والوں کو نہیں تھی۔گویا مگہ والوں کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔تم تو اصحاب الفیل کے مقابلہ میں بھی ذلیل تھے۔جب تمہارے جیسے ذلیل انسانوں کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کے حملہ سے مکہ کو بچایا تو کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تمہارے حملہ سے وہ محمد رسول اللہ میل تعلیم کو نہیں بچائے گا۔تیسرا قریبی تعلق پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ اس میں بتایا گیا ہے کہ مکہ کا بچانا بھی گو اصحاب الفیل کی تباہی کی ایک وجہ تھی۔مگر اصل وجہ محمد رسول اللہ علیم کی حفاظت تھی اور یہ مقصد اور تمام مقاصد سے زیادہ مقدم اور اہم تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خانہ کعبہ کو بچانا خود بھی ایک مقصود تھا مگر بعض دفعہ ایک سے زیادہ بھی مقصود ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس جگہ فرماتا ہے کہ تم کہتے ہو محمد رسول اللہ علیم کس طرح جیت جائیں 898