نُورِ ہدایت — Page 899
گے۔محمد رسول اللہ صل العلم تو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی خاطر اصحاب الفیل کو تباہ کر دیا۔اب کیا تم سمجھتے ہو کہ محمد رسول اللہ علی ایم کی پیدائش سے پہلے تو اس نے آپ کے لئے ایسا عظیم الشان نشان دکھا دیا تھا مگر پیدا ہونے کے بعد وہ آپ کو چھوڑ دے گا۔جس انسان کی حیثیت اتنی عظیم الشان تھی کہ اس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اپنے نشانات کو ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا تم سمجھ سکتے ہو کہ اس کے پیدا ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کو اس کا کتنا بڑا احترام ملحوظ ہو گا اور اس کی عظمت کے اظہار کے لئے وہ کیا کچھ نہ کرے گا۔پس تمہیں اپنا فکر کر لینا چاہئے ایسا نہ ہو کہ تم اس کی مخالفت میں اپنی عاقبت تباہ کرلو۔چوتھا قریبی تعلق اس سورۃ اور پہلی سورۃ کا یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں دشمن کے مال و دولت کے مالک ہونے کا دعوی بیان کیا گیا تھا۔دشمن کا دعویٰ تھا کہ میں بڑا مالدار ہوں اور اس کی وجہ سے میں ہمیشہ ہمیش قائم رہوں گا۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کے واقعہ کو پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ اصحاب الفیل بھی بڑے دولتمند تھے اور ان کی دولت سے تمہاری دولت زیادہ نہیں۔مگر باوجود اس کے کہ وہ بڑے دولتمند تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کر دیا۔پانچواں قریبی تعلق اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ بعض لوگ یہ اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ اگلے جہان کے عذاب سے لوگوں کو ڈرانے کا فائدہ کیا ہے؟ پہلی سورۃ میں فرمایا گیا تھا کہ كَلَّا لَيُنَبَذَنَ فِي الْحُطَمَةِ۔وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحُطَمَةُ نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تطلعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُؤْصَدَةٌ فِي عَمَلٍ مُمدَّدَة (الهمزة 5-10) میں بتا چکا ہوں کہ ان آیات میں خصوصیت سے اس دنیا کے عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔مگر اس کے ظاہری معنے چونکہ یہی نظر آتے ہیں کہ اگلے جہان میں کفار پر اس رنگ میں عذاب نازل ہوگا۔اس قسم کی آیات پر کفار شور مچا دیا کرتے ہیں کہ اگلا جہان تو کسی نے دیکھا نہیں۔پس تم اگلے جہان کے عذابوں کا ذکر کر کے در حقیقت لوگوں کو دھوکا دیتے ہو۔اور ایک ایسی بات پیش کرتے ہو جس 899