نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 896 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 896

بڑے بڑے مالدار، بڑے بڑے عقلمند، بڑے بڑے مدبر اور بڑی بڑی طاقتوں والے ہار جائیں اور کمز ور جیت جائیں۔جن کے پاس حکومت ہو وہ تو شکست کھا جائیں اور جو ہمسایوں کے مظالم کا شکار ہورہا ہو وہ فتح حاصل کر لے۔پس چونکہ یہ اعتراض پیدا ہوتا تھا کہ عقل اس بات کو نہیں مان سکتی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں ایک ایسا واقعہ پیش کیا ہے جسے کوئی عقل نہیں مان سکتی تھی۔اس میں جو کچھ ہوا الہی تقدیر کے ماتحت ہوا اور عقل کے بالکل خلاف نتیجہ پیدا ہوا اور دنیا کو تسلیم کرنا پڑا کہ اس دنیا میں صرف وہی کچھ نہیں ہوتا جو عقل کے مطابق ہو بلکہ ایسے واقعات بھی رونما ہو جایا کرتے ہیں جو عقل کے خلاف ہوتے ہیں جیسا کہ اصحاب الفیل کا واقعہ ہے۔ایک بادشاہ نے جس کی بہت بڑی اور منظم حکومت تھی مکہ پر حملہ کیا۔مگر باوجود ساری طاقتوں اور قوتوں کے وہ ہار گیا اور مکہ کے لوگ جو بے سر و سامان تھے جیت گئے۔یوں تو هُمَزَة اور لمرة ہر جگہ ہوتے ہیں مگر اس جگہ پہلے مخاطب مگہ کے هُمَزَۃ اور لمزة ہی تھے اور انہیں کے متعلق یہ کہا گیا تھا کہ الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَ عَمَّدَة يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ اخْلَدَہ۔وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہم مال و دولت کے زور سے غالب آجائیں گے اور محمد رسول اللہ عالم ہمارے مقابلہ میں بار جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ان مکہ والوں کو فرماتا ہے کہ تمہارے مکہ میں ایک مثال موجود ہے۔تم جو محمد رسول اللہ علیم کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بڑا کہہ رہے ہو تمہیں یادرکھنا چاہئے کہ تم سے بھی بڑے بڑے لوگ دنیا میں موجود تھے۔تم سے بھی بڑی بڑی حکومتیں دنیا میں موجود تھیں۔چنانچہ انہیں حکومتوں اور طاقتوں میں سے ایک نے مکہ پر حملہ کیا اور تم لوگوں نے بغیر مقابلہ کئے اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔لیکن مکہ چونکہ خدا کے ایک پیارے کا صدر مقام بننے والا تھا اور چونکہ وہ خدا تعالیٰ کی ایک پیاری جگہ اور اس کا مقدس مقام تھا۔اللہ تعالیٰ نے دشمن کے ارادوں کو باطل کر دیا اور اس کی تدبیروں کو توڑ کر رکھ دیا۔چنانچہ آخر مکہ ہی غالب رہا اور وہ بڑا طاقتور دشمن ناکام و نامرادر ہا۔یہ مثال تمہارے سامنے موجود ہے۔عقل میں وہ بات 896