نُورِ ہدایت — Page 890
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک سورت بھیج کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدر اور مرتبہ ظاہر کیا ہے اور وہ سورت ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَب الْفِيلِ۔یہ سورت اس حالت کی ہے کہ جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم مصائب اور دکھ اٹھا رہے تھے۔اللہ تعالیٰ اس حالت میں آپ کو تسلی دیتا ہے کہ میں تیرا موئید و ناصر ہوں۔اس میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے اصحاب الفیل کے ساتھ کیا کیا۔یعنی ان کا مکر الٹا کر اُن پر ہی مارا اور چھوٹے چھوٹے جانور ان کے مارنے کے لئے بھیج دیے۔ان جانوروں کے ہاتھوں میں کوئی بندوقیں نہ تھیں بلکہ مٹی تھی۔سیچیل بھیگی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں۔اس سورہ شریف میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ قرار دیا ہے اور اصحاب الفیل کے واقعہ کو پیش کر کے آپ کی کامیابی اور تائید و نصرت کی پیشگوئی کی ہے۔یعنی آپ کی ساری کارروائی کو برباد کرنے کے لئے جو سامان کرتے ہیں اور جو تدابیر عمل میں لاتے ہیں ان کے تباہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ان کی ہی تدبیروں کو اور کوششوں کو الٹا کر دیتا ہے۔کسی بڑے سامان کی ضرورت نہیں ہوتی۔جیسے ہاتھی والوں کو چڑیوں نے تباہ کرد یا ایسا ہی یہ پیشگوئی قیامت تک جائے گی۔جب کبھی اصحاب الفیل پیدا ہوگا تب ہی اللہ تعالیٰ ان کے تباہ کرنے کے لئے ان کی کوششوں کو خاک میں ملا دینے کے سامان کر دیتا ہے۔پادریوں۔۔۔کی چھاتی پر اسلام ہی پتھر ہے ورنہ باقی تمام مذاہب ان کے نزدیک نامرد ہیں۔ہندو بھی عیسائی ہو کر اسلام کے ہی رڈ میں کتابیں لکھتے ہیں۔رام چندر اور ٹھا کر داس نے اسلام کی تردید میں اپنا سارا زور لگا کر کتابیں لکھی ہیں۔بات یہ ہے کہ ان کا کانشنس کہتا ہے کہ ان کی ہلاکت اسلام ہی سے ہے۔طبعی طور پر خوف ان کا ہی پڑتا ہے جن کے ذریعہ ہلاکت 890