نُورِ ہدایت — Page 876
اور وہ اپنے حاکموں کو توڑ دیتے ہیں۔یا اندرونی طور پر حکام میں ایسا تنزل پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ آپ ہی آپ ٹوٹنے لگ جاتے ہیں۔اور یا پھر خدائی غضب نازل ہو کر ان کو تباہ کر دیتا ہے۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ سورۃ تو اہل مکہ کی نسبت ہے اور ان کے پاس کوئی زیادہ مال نہیں تھا پھر وہ تکاثر کے مجرم کس طرح ہو گئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر قوم کی دولت نسبتی ہوتی ہے اگر ان کے مالدار چھوٹے تھے تو ان کے غریب بھی تو بہت غریب تھے پس تکا فرنسبتی امر ہے۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے پاس کروڑوں نہیں اس لئے میں تکاثر کا مجرم نہیں۔امریکہ والوں کے لئے تکاثر کے اور معنے ہیں۔انگلستان کے لئے اور۔اور ہندوستان کے لئے اور اس میں سے ہندوؤں کے لئے اور۔مسلمانوں کے لئے اور۔پھر احمدیوں کے لئے اور۔جس قوم پر جو ذمہ واری ہے چھوٹی ہو یا بڑی، اگر وہ اس ذمہ واری کو ادا کرنے سے قاصر ہے تو پکا شر کی مرتکب ہے بلکہ جب بھی دین یا دنیا کے کسی اچھے کام کے لئے کسی قربانی کی ضرورت ہے اور کوئی شخص اس وقت اپنے ہاتھ کو پیچھے کھینچ لیتا ہے گو اس کے پاس ایک ٹکڑا روٹی کا ہی تھا وہ تکا شر کا مرتکب ہے کیونکہ اس نے ایک چیز اپنے پاس رکھ لینی چاہی جو دوسروں نے قربان کر دی تھی یا جس کی اس کے دین یا اس کی قوم کو ضرورت تھی۔جس قوم میں یہ نقص پیدا ہو جائے اور قربانی میں دریغ کرنے لگے وہ تباہ ہو جاتی ہے۔اسی لئے فرما یا حتی زُرتُمُ الْمَقَابِر یعنی یہ مرض آخر قومی موت کی طرف لے جاتا ہے۔اس جگہ یہ سال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا تکاثر اور تفاخرکی طور پر منوع ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اس تکاثر کا ذکر ہے جو انسان کو موت تک پہنچا دیتا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے اَلْهُكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِر۔اس تکاثر نے تم کو تمام نیک باتوں سے غافل کر دیا ہے یہاں تک کہ تم موت تک پہنچ گئے ہو۔یعنی اگر نیک باتوں پر فخر ہو یا ایسی باتوں پر فخر ہو جو دوسروں کو نیکی اور تقویٰ کی طرف لانے میں محمد ہوں تو اس قسم کا تفاخر منع نہیں۔گویا تفاخر کی دو قسمیں ہیں۔ایک تفاخر وہ ہے جو انسان کو مقابر کی طرف لے جاتا ہے۔اور ایک تفاخر وہ ہے جو انسان میں زندگی پیدا کرتا ہے۔جو تفاخر انسان کو مقابر کی طرف لے جاتا 876