نُورِ ہدایت — Page 870
خدا تعالیٰ کا فضل جو تمام ترقیات کا اصل باعث ہوتا ہے اسے بھول جاتا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بڑائی بیان کی اور پھر فرمایا میں کوئی فخر نہیں کرتا کیونکہ مجھے یہ خوبی محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوئی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ مومن باوجود بڑائی حاصل ہونے کے تفاخر سے کام نہیں لیتا۔کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ جو چیز میرے لئے موجب فخر ہے وہ مجھے خود بخود حاصل نہیں ہوئی بلکہ میرے اندر اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔لیکن غیر مومن ایسا نہیں کرتا۔اس لئے جب کسی انسان کے اندر تکاثر پیدا ہوگا اور وہ اپنی کثرت پر فخر کرے گا یا اپنی عزت پر فخر کرے گا یا اپنے مال پر فخر کرے گا یا اپنی طاقت پر فخر کرے گا تو لازمی طور پر خدا تعالیٰ کا وجود اس کی نظر سے اوجھل ہو جائے گا اور وہ سمجھے گا کہ یہ کام میں نے کیا ہے۔پس تکاثر کی وجہ سے ایک تو خدا تعالیٰ کے فضل انسانی نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔پھر اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی ذات بھی اوجھل ہو جاتی ہے۔جب کوئی شخص اپنی ذات کو دنیا میں بڑا دیکھتا ہے تو اس کا سوائے اس کی اور کوئی مفہوم نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے نگاہ سے اوجھل ہو چکا ہے۔گویا تکاثر کے نتیجہ میں اول موجبات فخر یعنی صفات الہیہ اس کی نظر سے اوجھل ہوتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ کی ذات بھی اس کی نظر سے اوجھل ہو جاتی ہے۔پس آلهُكُمُ التَّكَاثُرُ کے معنے یہ ہوئے کہ الْهُكُمُ التَّكَاثُرُ عَنْ صِفَاتِ اللهِ و عَنِ اللہ تمہیں تکاثر نے اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی ذات دونوں سے غافل کر دیا ہے۔پھر دنیا میں اللہ تعالیٰ کے جتنے فضل نازل ہوتے ہیں سب ملائکہ کے ذریعہ نازل ہوتے ہیں۔لیکن جب کوئی شخص اپنی ذات پر فخر کرتا ہے تو نہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی ذات کو بھول جاتا ہے بلکہ وہ اس بات کو بھی فراموش کر دیتا ہے کہ میری عزت یا دولت یا شہرت کے حصول میں محض میری ذاتی کوششوں کا دخل نہیں بلکہ ان ملائکہ کا بھی دخل ہے جو 870