نُورِ ہدایت — Page 862
ہے وہ بدی کے متعلق نہیں۔پس مومن کے لئے گھبراہٹ کا کوئی مقام نہیں ہاں اگر کافر گھبرائے تو وہ اس کا سزاوار ہے۔پھر آپ نے فرمایا وَلَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِعَمَلِهِ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو اپنے عمل کے زور سے نجات حاصل کر سکے۔نجات کا موجب عمل نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے۔قُلْتُ وَلَا اَنْتَ يَا رَسُولَ اللہ۔میں نے کہا یا رسول اللہ کیا آپ بھی اپنے عمل سے نجات نہیں پائیں گے؟ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَعَمَّدَنِي اللهُ مِنْهُ برحمة۔آپ نے فرمایا نہیں میں بھی اپنے عمل سے نجات نہیں پاسکتا۔میری مغفرت بھی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مجھے ڈھانپ لے۔درحقیقت اگر ہم غور کریں تو بات وہی ہے جو غالب نے کہی: جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا اگر نبی نیکی کرتا ہے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں سے ہی کرتا ہے۔پس منطقی طور پر اگر دیکھا جائے تو نبی کے ہاتھ میں بھی سوائے فضل کے اور کچھ نہیں ہوتا۔کیونکہ اگر اس نے نماز پڑھی ہے یا روزہ رکھا ہے یا حج کیا ہے یا صدقہ وخیرات میں حصہ لیا ہے یا اور نیکیاں کی ہیں تو وہ سب کی سب خدا تعالیٰ کی عطا کردہ طاقتوں سے کی ہیں۔اس لئے خالص منطقی نظریہ سے اگر دیکھا جائے تو نبی کی نجات بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں ہو سکتی۔بے شک عملی نظریہ میں ایک شخص نیک ہوتا ہے اور ایک بد لیکن منطقی نظریہ کے ماتحت کوئی بڑے سے بڑا نیک بھی محض اعمال کی بنا پر نجات کا مستحق نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ اس نے جو کچھ کیا اللہ تعالیٰ کی طاقتوں سے کام لے کر کیا ہے۔اس حدیث میں رسول کریم ملا لیا لیلی نے جو کچھ فرمایا ہے خالص منطقی نظریہ کے ماتحت فرمایا ہے، عملی نظریہ کے ماتحت نہیں۔(ماخوذ از تفسير كبير زير سورة الزلزال ) 862