نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 853 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 853

زمانہ کے متعلق ہے۔اسی زمانہ میں اس قسم کے اخبارات شائع ہورہے ہیں جن میں لوگوں کے تمام عیوب بیان کئے جاتے ہیں اور لوگ ان اخبارات کو بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں حدیث میں اسی طرف اشارہ ہے۔مفسرین نے اسے غلطی سے قیامت پر چسپاں کر دیا ہے حالانکہ قیامت کے ذکر میں قرآن کریم میں یہ کہیں بیان نہیں کیا گیا کہ اس روز زمین بھی کلام کرے گی۔یہ تو آتا ہے کہ ہاتھ بولیں گے یا پاؤں بولیں گے اور وہ انسان کے خلاف شہادت دیں گے مگر یہ کہیں ذکر نہیں آتا ہے کہ اس روز زمین بھی بولے گی۔لیکن مسیح موعود کے زمانہ کے متعلق بالوضاحت احادیث میں ذکر آتا ہے کہ اس وقت زمین کلام کرے گی۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے مسیح موعود کے زمانہ میں وہ پتھر جس کے پیچھے کافر چھپا ہوا ہوگا بول اٹھے گا اور کہے گا اے نبی اللہ یہ کا فرچھپا ہوا ہے۔غرض زمین کے بولنے کا حدیثوں میں جہاں بھی ذکر آتا ہے مسیح موعود کے زمانہ کے متعلق ہے اور قرآن کریم میں جہاں قیامت کے دن شہادت دینے کا ذکر آتا ہے وہاں ہاتھوں اور پاؤں کے بولنے کا تو ذکر آتا ہے مگر زمین کا نہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت موجودہ زمانہ کے متعلق ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی خبر دی گئی ہے کہ لوگ اپنے گند اخباروں میں ظاہر کریں گے۔کتابوں اور ڈائریوں میں ان کو شائع کریں گے اور خوش ہوں گے کہ انہوں نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔گویا جن امور کو لوگ پہلے چھپایا کرتے تھے ان کو مزے لے لے کر بیان کریں گے اور شرم اور حیا کا مفہوم اس زمانہ میں بالکل بدل جائے گا۔گزشتہ تاریخ پر غور کر کے دیکھ لو اس کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملے گی۔یہی وہ زمانہ ہے جس میں یہ زلزلہ عظیمہ آیا اور جس میں اللہ تعالیٰ کی یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی کہ يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا۔853