نُورِ ہدایت — Page 831
م کے صحیح استعمال یعنی صحیح عمل کی طرف اشارہ ہے اور یہی دو چیزیں ہیں جو روحانی ترقی میں کام آیا کرتی ہیں۔فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ پس اس ( حقیقت کے کھل جانے) کے بعد کونسی چیز تجھ کو جزا وسزا کے معاملے میں جھٹلاتی ہے۔یعنی یہ تین مثالیں جو او پر پیش کی جاچکی ہیں کہ آدم آئے شیطان نے ان کا مقابلہ کیا اور اس نے سمجھا کہ میں آدم کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاؤں گا مگر آخر شیطان نے ہی شکست کھائی اور آدم کامیاب و با مراد ہوا۔پھر نوع آئے ، دشمن نے ان کا مقابلہ کیا۔ان کو نا کام کرنے کے لئے اس نے پورا زور لگایا اور سمجھا کہ میں نوح کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاؤں گا مگر آ خر نوع ہی کامیاب ہوئے اور ان کا دشمن ناکامی کی حالت میں تباہ ہو گیا۔اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام آئے ان کے مقابل میں بھی دشمن اپنے لشکر سمیت اٹھا اور اس نے موسی کو نا کام کرنے کے لئے پورا زور لگایا مگر آخر موسی ہی کامیاب ہوئے اور دشمن ناکام ہوا۔ان تین مثالوں کے بعد تیرے دشمن کس دلیل کی بنا پر تجھے جھٹلا سکتے ہیں اور کونسی بات ہے جو وہ تیرے خلاف پیش کر سکتے ہیں۔وہ کہیں گے کہ تو کمز ور اور نا تواں ہے تو ہمارے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتا مگر کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آدم بھی کمز ور تھا۔نوح بھی کمز ور تھا۔موسیٰ بھی کمزور تھا۔اور ان کے متعلق بھی یہی سمجھا جاتا تھا کہ وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔پھر اگر وہ اپنی کمزوری کے باوجود کامیاب ہو گئے تو تو کمزور ہونے کے باوجود ان پر کیوں غالب نہیں آ سکتا۔غرض فرماتا ہے فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ اے محمد ملا لیں ان مثالوں کے بعد یہ لوگ تیرے انعام پانے اور اپنے بلاک ہونے میں دین حقہ کی بنا پر کس طرح شک کر سکتے ہیں۔ان مثالوں کے بعد کونسی دلیل ہے جو ان کو شبہ میں مبتلا رکھ سکتی ہے یا کون سا انسان ہے جودین کی بنا پر تیری تکذیب کر سکتا ہے۔831