نُورِ ہدایت — Page 828
اسے پھر سزا دیتے ہیں اور اس طرح اُسے ذلیل اور ادنیٰ حالت کی طرف لے جاتے ہیں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس آیت میں آسفل سافلین ضمیر کا حال واقع ہوا ہو۔یعنی ذوالحال فاعل نہ ہو بلکہ مفعول ذوالحال ہو۔اس صورت میں آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ پھر انسان کو ہم نے اپنے دروازہ سے کو ٹا یا اس حال میں کہ وہ آسفل سافلین تھا۔ان معنوں کے لحاظ سے وہ اعتراض واقع نہیں ہو سکتا جو پہلے معنوں پر عائد ہوتا ہے اور ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ کا یہ مفہوم ہو گا کہ ہم انسان کو اس کے مقام سے ہٹا دیتے ہیں ایسے حال میں کہ وہ أَسْفَلَ سَافِلِينَ ہوتا ہے۔یعنی جب وہ گنہگار ہو کر ہماری نظروں سے گر جاتا ہے تو ہم اسے اپنے دربار سے واپس کر دیتے ہیں۔اس آیت کے ایک معنی فردی لحاظ سے ہیں اور ایک معنی اجتماعی لحاظ سے۔اجتماعی لحاظ سے اس کے یہ معنے ہیں کہ ہدایت پہلے ہے اور ضلالت بعد میں آتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ - ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ پہلے ہم انسان کے لئے اس کی ہدایت کے سامان مہیا کرتے ہیں بعد میں بگڑ کر وہ ضلالت اور گمراہی کی راہیں اختیار کر لیتا ہے۔فرد کے لحاظ سے اس کے یہ معنے ہیں کہ انسان کو ہم نے ہدایت دی اور اعلیٰ درجہ کی طاقتیں نیکی میں ترقی کرنے کے لئے بخشیں۔لیکن جب اس نے ان کا غلط استعمال کیا تو وہ أَسْفَلَ سَافِلِین میں گر گیا۔یعنی انسان کی دونوں حالتیں دوسری مخلوق سے بڑی ہیں۔جب نیکی کی طرف آتا ہے تو سب مخلوق سے بڑھ جاتا ہے اور جب بدی کی طرف گرتا ہے تو ساری مخلوق سے گر جاتا ہے۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے اضداد کا مالک بنایا ہے۔نیکی میں حصہ لیتا ہے تو ساری مخلوق سے بڑھ جاتا ہے اور بدی میں حصہ لیتا ہے تو کٹوں اور سؤروں سے بھی گرجاتا ہے۔یا یوں کہو کہ وہ ترقی کرتا ہے تو فرشتوں سے بھی بڑھ جاتا ہے اور گرتا ہے تو شیطانوں سے بھی نیچے چلا جاتا ہے۔گو یالَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ میں بالقوه توی کا ذکر ہے 828