نُورِ ہدایت — Page 827
میں کامیاب ہوجانا اور دنیا کا ایک نئے رنگ میں بدل جانا ثبوت ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے۔یعنی انسانی پیدائش ایسے اصول پر ہوئی ہے کہ وہ اعتدال کے اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پر پہنچ سکتا ہے۔۔۔آدم ، نوع ، موسیٰ ، اور ان کے متبع اس امر کا ثبوت ہیں اور محمد ام آئندہ اس بات کا ثبوت بننے والے ہیں کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ - ثُمَّ رَدَدْتُهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ پھر ہم نے اس کو ادنی درجوں سے ( بھی ) بددرجہ کی طرف لوٹا دیا ردَدْنَاهُ میں ضمیر خدا تعالیٰ کی طرف پھرتی ہے اور یہ اس امر کے اظہار کے لئے کیا گیا ہے کہ خدا تعالی بد کار کو بطور سزا اس کے مقام سے گرادیتا ہے۔یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ اس سے بدی کرواتا ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ آدم کو جنت میں سے ہم نے نکالا۔اور یہ بھی فرمایا ہے کہ آدم کو جنت میں سے شیطان نے نکالا۔چنانچہ فرماتا ہے يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ (الاعراف 28) یہ ظاہر ہے کہ آدم کو جنت میں سے شیطان کا نکالنا اور آدم کو جنت سے اللہ تعالیٰ کا نکالنا ایک معنوں میں نہیں آسکتا۔بہر حال تسلیم کرنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کا نکالنا اور رنگ رکھتا ہے اور شیطان کا نکالنا اور رنگ رکھتا ہے اور ان دونوں میں کوئی نہ کوئی فرق پایا جاتا ہے۔وہ فرق یہی ہے کہ شیطان چونکہ اس غلطی کا باعث بنا تھا جس کے نتیجہ میں آدم کو جنت میں سے نکالا تھا۔لیکن چونکہ نتیجہ خدا نے پیدا کیا تھا اس لئے دوسرے مقام پر یہ کہہ دیا گیا کہ آدم کو خدا تعالیٰ نے جنت میں سے نکالا تھا۔گویا شیطان کا نکالنا بلحاظ فعل بد کے ہے اور اللہ تعالیٰ کا نکالنا بلحاظ اس سزا کے ہے جو اس فعل کے نتیجہ میں اللہ تعالی کی طرف سے ظاہر ہوئی۔اسی طرح رددناه أسفل سافلین کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ انسان کو بگاڑتا ہے۔بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جب انسان بگڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سزا کے طور پر آسْفَلَ سَافِلِينَ میں بھیج دیتا ہے۔۔۔وہ ایک جرم کرتا ہے ہم اسے اس کی سزا دیتے ہیں۔وہ پھر جرم کرتا ہے ہم 827