نُورِ ہدایت — Page 823
ساتھ گہرے طور پر تعلق رکھتا ہے۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورۃ سے پہلے کی چندسورتوں میں ہجرت کا ذکر چلا آتا ہے۔چنانچہ پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ تمہیں ہجرت کرنی پڑے گی۔پھر یہ بتایا گیا ہے کہ ہجرت کس طرح ہوگی۔اور پھر یہ بتایا گیا ہے کہ ہجرت کے بعد تمہیں کس طرح غلبہ حاصل ہوگا۔کفار کیونکر مغلوب ہوں گے اور اسلام کو کس طرح شوکت اور عظمت حاصل ہوگی۔پہلی مثال آدم کی ہے۔۔۔یعنی جب شیطان نے آدم کو جنت میں سے نکالنے کا سامان کیا تو آدم نے وَرَقُ الجنّة کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور اس طرح وہ ننگ جو ظاہر ہو گیا تھا اس کو ڈھانک لیا۔۔۔۔وَرَقُ الْجَنَّةِ تعبیر الرؤیا کے مطابق انجیر کے پتوں کو کہتے ہیں اور جیسا کہ انجیر کے معنے صلحاء اور پاک طینت لوگوں کے ہیں۔اسی طرح وَرَقُ الْجَنَّةِ کے معنے بھی جنتی نسل کے ہیں اور جنتی نسل وہی ہوتی ہے جو صلحاء اور پاک لوگوں پر مشتمل ہو۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالزَّيْتُونِ۔دوسری مثال ہم زیتون کی دیتے ہیں۔زیتون کی مثال نوح کا واقعہ ہے۔نوع کو اس کی قوم نے سخت تنگ کیا اور آخر ایک عذاب عظیم آیا جس کی وجہ سے نوع کی قوم تباہ ہوئی اور نوح کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔نوح کو جس چیز نے یہ بشارت دی تھی کہ تیری ہجرت کامیاب ہوگئی ہے تو جیت گیا اور تیرے دشمن ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو گئے ہیں وہ زیتون کی پٹی تھی۔اور آدم کو جس چیز نے یہ بتایا کہ تو کامیاب ہو گیا ہے وہ انجیر کے پتے تھے۔اللہ تعالیٰ انہی دو واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے وَالتَّيْنِ وَالزَّيْتُونِ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تین کا واقعہ بھی تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں اور زیتون کا واقعہ بھی تمہیں یاد دلاتے ہیں۔دونوں جگہ ہجرت ہوئی مگر دونوں جگہ شیطان کو نا کامی ہوئی۔آدم نے ہجرت کی مگر آخر آدم ہی دشمن پر کامیاب ہوا۔نوح نے ہجرت کی مگر آخر نوع ہی دشمن پر کامیاب ہوا۔نوح کے بعد وہ ملک جس میں آپ رہتے تھے پھر بسا نہیں بلکہ تباہ ہو گیا۔823