نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 809 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 809

وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ اور ( ایسا کرکے ) ہم نے تیرے (اس) بوجھ کو تجھ پر سے اتار دیا جس نے تیری کمر توڑ رکھی تھی۔اوِزُر کے معنے بوجھ کے ہیں۔جس طرح پہلی آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعارت الشرح لی صدری کے مقابل میں رسول کریم ملی تعلیم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدُرَكَ اسى طرح وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ میں ماضی کے الفاظ استعمال کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر آپ کی ایک فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ وَاجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلی (طه 30) اے میرے رب میرے اہل میں سے کوئی میرا بوجھ بٹانے والا پیدا کر دے۔گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے ایک ایسا شخص مانگنے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی جو اُن کا بوجھ بٹانے والا ہو۔مگر اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ سے فرماتا ہے کہ ہم نے بغیر تیرے مانگنے کے تجھے ایسے ساتھی عطا کر دیے ہیں جو تیرے بوجھ کو صرف بٹانے والے نہیں بلکہ سارا بوجھ اپنے آپ اٹھانے والے ہیں۔انہوں نے تیرے اوپر سے وہ سب کا سب بوجھ اٹھا لیا ہے جس نے تیری کمر کو توڑ دیا تھا۔اسی مفہوم کی آیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں آتی ہے وہ دعا کرتے ہیں وَاجْعَلْ لى وَزِيرا من اهلی اور اس کے معنے اختلافی نہیں مُسلّمہ ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام دشمنوں کی مخالفت کے خیال سے فوراً ہی ایک مومن کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کا بوجھ اٹھائے۔آنحضرت صلم کی نسبت اللہ تعالیٰ خود فرما دیتا ہے کہ وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي انْقَضَ ظهرك۔۔۔ہم نے تیرا بوجھ اتار دیا اور تیری مدد کے لئے وہ لوگ کھڑے کر دیئے جنہوں نے تیرے بوجھ کے نیچے اپنے کندھے دے دیئے اور کہا یا رسول اللہ علیم ہم اس بوجھ کو اٹھانے 809