نُورِ ہدایت — Page 807
ہے یا تمہارے ہاتھ سے بھی اسی طرح مردے زندہ ہوتے ہیں جس طرح عیسی کے ہاتھ سے زندہ ہوتے تھے یا جب خدا تمہیں موسیٰ کہتا ہے تو کیا موسیٰ کی طرح ید بیضا کا نشان بھی تمہیں عطا کرتا ہے یا جب محمد کہتا ہے تو کیا محمدرسول اللہ علیہ کا وہ مقام جودَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنٍ أَوْ آنلى(النجم 9-10) میں بیان کیا گیا ہے وہ بھی تمہیں ملتا ہے۔یا تمہیں وہی فصاحت اور وہی بلاغت عطا کی جاتی ہے جو رسول کریم علیم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی ؟ وہ کہنے لگا ملتا تو کچھ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تو پھر وہ خدا نہیں بلکہ شیطان ہے جو تمہیں روزانہ عیسی اور موسیٰ اور محمد کہتا ہے۔اگر خدا تمہیں یہ مقام عطا کرتا تو تمہیں اس مقام سے تعلق رکھنے والے انعامات بھی دیتا۔اسی طرح ایک دوسرا شخص بھی دیکھ سکتا ہے کہ اس کا سینہ چیرا گیا اور دل دھو کر دوبارہ اس کے اصل مقام پر رکھ دیا گیا۔مگر فرق یہ ہوگا کہ اس کا سینہ پھر بھی تنگ ہی رہے گا۔مگر جس کا خدا دل دھو کر اس کے سینہ میں رکھ دے گا اس کا سینہ پہلے سے ہزاروں گنا زیادہ وسیع ہو جائے گا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق آپ کے رضاعی بھائی نے جو شہادت دی اگر وہ بات جھوٹی ہوتی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کا شرح صدر ہو کس طرح گیا؟ پھر تو چاہئے تھا آپ کا شرح صدر نہ ہوتا۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ادھر آپ کا سینہ چاک کر کے دل دھویا گیا اور ادھر دنیا نے دیکھ لیا کہ ہر علم وفن کے متعلق رسول کریم ملالیم نے تعلیمات دیں جن کی نظیر اور کسی شخص میں نہیں ملتی۔علم کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں قرآنی خیالات لے کر آپ نے ری فلسیکٹر کے طور پر دنیا میں نہایت اعلیٰ اور بے عیب تعلیمیں پیش نہ کی ہوں۔جب ہم ان واقعات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آپ کا سینہ چیرنے والا فرشتہ ہی تھا ورنہ خالی دل دھودھا کر سینہ کے اندر رکھ دینے میں کیا کمال ہو سکتا تھا۔بات تو وہی رہی پہلے بھی دل میں خون آتا تھا اور اس کے بعد بھی دل میں خون نے ہی آنا تھا۔جو چیز اس واقعہ کو عظمت دیتی ہے وہ اس کا جسمانی نہیں بلکہ روحانی پہلو ہے۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا الم نشرح لك صدرك۔کیا بچپن میں ہی ہم نے یہ نظارہ تجھے نہیں دکھا دیا تھا اور ہم نے بچپن میں ہی تجھ سے یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ ہم ایک دن تجھ میں 807