نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 798 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 798

کوئی ثبوت دیکھا ہے یا نہیں اور یہ مضمون ظاہر ہے کہ بہت ہی نامکمل ہوتا لیکن آلخر نشرخ لك صدرك کہہ کر اس امر پر زور دے دیا کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے اور یہ امر تو بھی جانتا ہے اور تیرے دشمن بھی جانتے ہیں۔یعنی ایک چھپی ہوئی بات نہیں ایک ظاہر اور کھلا نشان ہے جس انکار کوئی نہیں کر سکتا۔غرض ایسا فقرہ استعمال کر کے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ حقیقت دوسروں پر مخفی نہیں شرح صدر کی اہمیت کو ایسا واضح کر دیا ہے کہ اور کوئی مختصر الفاظ اس مضمون کو بیان نہ کر سکتے تھے۔الَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ اپنے اندر تصدیق مخاطب کا مضمون بھی رکھتا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ مخاطب اس علم میں ہمارا شریک ہے۔وہ اس واقعہ سے انکار نہیں کرسکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الخ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ہم نے تیرا سینہ اس طرح نہیں کھولا کہ تو خود بھی اس بات کی گواہی دے گا اور تجھے علم ہے کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے۔شرح کے معنی (1) کھولنے (2) پھیلانے (3) سمجھانے (4) محفوظ کر دینے (5) اچھی طرح بیان کرنے کے ہیں۔سینہ کھولنے کے معنی مادہ قبولیت کے پیدا ہو جانے کے ہیں اور چونکہ یہ محاورہ اچھے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اس لئے اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اچھی باتوں کی قبولیت کے لئے دل آمادہ رہتا ہے یا کسی خاص معاملہ کے متعلق دل تسکین پالیتا ہے۔اسے اس بات پر یقین کامل ہو جاتا ہے تو اسے شرح صدر کہتے ہیں۔جب یقین ایسے کمال کو پہنچ جائے کہ اس میں معجزانہ رنگ پیدا ہو جائے تو اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے شرح صدر کہتے ہیں۔اور جب ایسے امور کے متعلق یقین ہو جو غیبی ہوں اور جن پر یقین پیدا ہونا الہی تصرف کے نتیجہ میں ہو سکتا ہو تو اسے بھی خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔اور انکار ابطالی کا استعمال جو در حقیقت اثبات پر دلالت کرتا ہے یہ بتاتا ہے کہ وہ امر پوشیدہ نہیں بلکہ اس کی حقیقت ظاہر و باہر ہوچکی ہے۔ان معنوں کی رُو سے اس آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ علیم کو صداقتوں اور نیکیوں کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کے لئے بہت بشاشت قلب عطا فرمائی 798