نُورِ ہدایت — Page 763
وَالنَّهَارِ إِذَا جَلُّهَا جب ہم دن کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ سورج چمکنے لگ گیا ہے کیونکہ سورج تو ہر وقت چمکتا رہتا ہے۔دن سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ہماری زمین سورج کے سامنے آگئی ہے پس وَالنَّهَارِ إِذَا جَلْهَا کے یہ معنے ہوئے کہ جب زمین نے سورج کے سامنے آکر سورج کو دکھا دیا۔صحھا کا مطلب اور تھا۔ضُحھا سے سورج کی ذاتی روشنی کی طرف اشارہ تھا خواہ وہ دنیا کے سامنے ہو یا نہ ہو سورج بہر حال چمک رہا ہوتا ہے اس کے سامنے بادل آجائیں یا زمین اس کی طرف سے رخ بدل لے اس کی ذاتی روشنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔لیکن باوجود سورج کے ہر وقت چمکتے رہنے کے رات کے وقت کو نہار نہیں کہیں گے کیونکہ نہار یا دن اس وقت کو کہتے ہیں جب سورج ہمارے حصہ ملک کے سامنے ہوتا ہے خواہ اس کے سامنے بادل ہی کیوں نہ آ گیا ہو۔اور جب وہ ہمارے حصہ ملک کے سامنے نہ ہو تو خواہ اس کے آگے بادل نہ ہو ہمارے ملک والے اس وقت کو دن نہیں کہیں گے اور یہ نہیں کہیں گے کہ سورج روشن ہے۔پس نہار اور مفہوم پیدا کرتا ہے اور ضُحھا اور مفہوم پیدا کرتا ہے۔ضُحى الشمس ہر وقت قائم رہتی ہے خواہ سورج کسی حصہ دنیا کے سامنے ہو یا نہ ہو۔کیونکہ وہ سورج کی ذاتی روشنی پر دلالت کرتی ہے۔اور بہار دنیا کے مختلف حصوں کے لحاظ سے بدلتا رہتا ہے۔کبھی یہاں دن کبھی وہاں۔کیونکہ دن اس وقت کو کہتے ہیں جب زمین سورج کے سامنے ہو کر لوگوں کو اپنی تھی دکھاتی ہے۔وَالنَّهَارِ إِذَا جَلْهَا میں تو زمین کی اس حالت کا ذکر کیا تھا جب وہ سورج کے سامنے آکر آبادی کو سورج دکھا دیتی ہے اور وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشها میں زمین کی اس کیفیت کا ذکر کیا گیا ہے جب وہ سورج سے اپنا منہ موڑ کر تیل پیدا کر دیتی اور دنیا کی نظروں سے سورج کو روپوش کر دیتی ہے۔ان چار آیات میں چار الگ الگ زمانوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔وَالشَّن و خطها میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہم سورج کو تمہارےسامنے بطور مثال پیش کرتے ہیں۔۔۔جو اپنے اندر ذاتی روشنی رکھتا ہے اور جوظلمتوں کو 763