نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 762 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 762

وہ آدمی جو احکام الہی کی پرواہ نہیں کرتا خدا بھی اس کی پرواہ نہیں کرتا جیسا کہ آیت کریمہ وَلا يَخافُ عُقبها سے ظاہر ہے۔یعنی نافرمانوں پر جب وہ عذاب کرنے پر آتا ہے تو ایسی لا ابالی سے عذاب کرتا ہے کہ عذاب کی ہلاکت سے ان کے بال بچوں کی بھی پرواہ نہیں کرتا کہ ان کا حال ان کے نافرمان والدین کے بعد کیا ہوگا۔الحکم جلد 9 نمبر 5 موخہ 10 فروری 1905، صفحہ 4 خدا تعالیٰ کی عظمت کو دل میں رکھنا چاہئے۔اور اس سے ہمیشہ ڈرنا چاہئے اس کی گرفت خطر ناک ہوتی ہے۔وہ چشم پوشی کرتا ہے اور در گذر فرماتا ہے لیکن جب کسی کو پکڑتا ہے تو پھر بہت سخت پکڑتا ہے یہاں تک کہ لا يَخافُ عُقبها۔پھر وہ اس امر کی بھی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کے پچھلوں کا کیا حال ہو گا۔برخلاف اس کے جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اس کی عظمت کو دل میں جگہ دیتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو عزت دیتا اور خود ان کے لئے ایک سپر ہو جاتا ہے۔الحکم جلد 10 نمبر 21 مورخہ 17 جون 1906، صفحہ 3) جولوگ انبیاء کی زندگی میں فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہیں اور عاقبت کی کچھ فکر نہیں کرتے اور راستبازوں پر حملے کرتے ہیں ایسوں ہی کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا يَخَافُ عُقْبَهَا اس سے مراد یہ ہے کہ جب ایک موذی بے ایمان کو اللہ کریم مارتا ہے تو پھر کچھ پرواہ نہیں رکھتا کہ اس کے عیال اطفال کا گزارہ کس طرح ہوگا اور اس کے پسماندہ کیسی حالت میں بسر کریں گے۔(احکم جلد 11 نمبر 34 مورخہ 24 ستمبر 1907، صفحہ 4) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وَالشَّمس ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں سورج کو وضحها اور اس کی اس روشنی کو جو اس کی ذاتی روشنی ہے۔وَالْقَمَرِ إِذا تلها ہم چاند کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں مگر خالی چاند کو نہیں بلکہ چاند کی اس حالت میں شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جب وہ کامل طور پر سورج کے سامنے آجاتا ہے اور اس کی روشنی کو جذب کر کے دوسری دنیا کو منور کر دیتا ہے۔762