نُورِ ہدایت — Page 759
بات ہے کہ جب تک انسان قوی بشریہ کے برے طریق کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک خدا نہیں ملتا۔دنیا کی گندگیوں سے نکلنا چاہتے ہو اور خدا تعالیٰ کو ملنا چاہتے ہو تو ان لذات کو ترک کرو۔الحکم جلد 10 نمبر 21 مورخہ 17 جون 1906 صفحہ 3) قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا اس نے نجات پائی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا۔لیکن تزکیہ نفس بھی ایک موت ہے۔جب تک کہ گل اخلاق رذیلہ کو ترک نہ کیا جاوے تزکیہ نفس کہاں حاصل ہوسکتا ہے۔ہر ایک شخص میں کسی نہ کسی شر کا مادہ ہوتا ہے وہ اس کا شیطان ہوتا ہے جب تک کہ اس کو قتل نہ کرے کام نہیں بن سکتا۔( اخبار بدر جلد 6 نمبر 18 مورخہ 2 مئی 1907ء صفحہ 2) آیت قرآنی قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَشها کا ترجمہ اردو میں ایک دفعہ سوچتا تھا تو یہ شعر لکھا گیا۔۔کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اس کو پاوے ( بدر جلد 6 نمبر 47 مورخہ 21 نومبر 1907 صفحه 10) یا درکھو کہ خدا کا یہ ہرگز منشاء نہیں کہ تم دنیا کو بالکل ترک کرد و بلکہ اس کا جو منشاء ہے وہ یہ ہے کہ قد أفلح من زكها - تجارت کرو، زراعت کرو، ملازمت کرو اور حرفت کرو، جو چاہو کرو مگر نفس کو خدائی نافرمانی سے روکتے رہو اور ایسا تزکیہ کرو کہ یہ امور تمہیں خدا سے غافل نہ کر دیں۔پھر جو تمہاری دنیا ہے وہ بھی دین کے حکم میں آجاوے گی۔الحکم جلد 12 نمبر 49، 50 مورخہ 26، 30 اگست 1908 صفحہ 4) تزکیۂ نفس بڑا مشکل مرحلہ ہے اور مدار نجات تزکیہ نفس پر موقوف ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قد أَفْلَحَ مَنْ زَكها اور تزکیہ نفس بجر فضل خدا میسر نہیں آسکتا۔( الحکم جلد 12 نمبر 33 مورخہ 14 مئی 1908 ، صفحہ 4) تزکیہ نفس میں ہی تمام برکات اور فیوض اور کامیابیوں کا راز پنہاں ہے۔فلاح صرف امور دینی ہی میں نہیں بلکہ دنیا و دین میں کامیابی ہوگی۔نفس کی ناپاکی سے بچنے والا انسان کبھی 759