نُورِ ہدایت — Page 746
اور پھر مثال کے طور پر فرمایا کہ ثمود کا قصہ اس بدبخت کے قصہ سے مشابہ ہے۔انہوں نے اس اونٹنی کو زخمی کیا جو خدا کی اونٹنی کہلاتی تھی اور اپنے چشمہ سے پانی پینے سے اس کو روکا۔سو اس شخص نے در حقیقت خدا کی اونٹنی کو زخمی کیا اور اس کو اس چشمہ سے محروم رکھا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کا نفس خدا کی اونٹنی ہے جس پر وہ سوار ہوتا ہے۔یعنی انسان کا دل الہی تجلیات کی جگہ ہے اور اس اونٹنی کا پانی خدا کی محبت اور معرفت ہے جس سے وہ جیتی ہے۔اور پھر فرمایا کہ ثمود نے جب اونٹنی کو زخمی کیا اور اس کو اس کے پانی سے روکا تو ان پر عذاب نازل ہوا۔اور خدا تعالیٰ نے اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے بچوں اور بیواؤں کا کیا حال ہوگا۔سو ایسا ہی جو شخص اس اونٹنی یعنی نفس کو زخمی کرتا ہے اور اس کو کمال تک پہنچانا نہیں چاہتا اور پانی پینے سے روکتا ہے وہ بھی بلاک ہوگا۔اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ خدا کا سورج اور چاند وغیرہ کی قسم کھانا ایک نہایت دقیق حکمت پر مشتمل ہے جس سے ہمارے اکثر مخالف ناواقف ہونے کی وجہ سے اعتراض کر بیٹھتے ہیں کہ خدا کو قسموں کی کیا ضرورت پڑی اور اس نے مخلوق کی کیوں قسمیں کھائیں؟ لیکن چونکہ ان کی سمجھ زمینی ہے ، نہ آسمانی اس لئے وہ معارف حقہ کوسمجھ نہیں سکتے۔سو واضح ہو کہ قسم کھانے سے اصل مدعا یہ ہوتا ہے کہ قسم کھانے والا اپنے دعوے کے لئے ایک گواہی پیش کرنا چاہتا ہے کیونکہ جس کے دعوے پر اور کوئی گواہ نہیں ہوتا وہ بجائے گواہ کے خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے اس لئے کہ خدا عالم الغیب ہے اور ہر ایک مقدمہ میں وہ پہلا گواہ ہے۔گویا وہ خدا کی گواہی اس طرح پیش کرتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ اس قسم کے بعد خاموش رہا اور اس پر عذاب نازل نہ کیا تو گویا اس نے اس شخص کے بیان پر گواہوں کی طرح مہر لگادی۔اس لئے مخلوق کو نہیں چاہئے کہ دوسری مخلوق کی قسم کھاوے۔کیونکہ مخلوق عالم الغیب نہیں اور نہ جھوٹی قسم پر سزا دینے پر قادر ہے۔مگر خدا کی قسم ان آیات میں ان معنوں سے نہیں جیسا کہ مخلوق کی قسم میں مراد لی جاتی ہے بلکہ اس میں یہ سنت اللہ ہے کہ خدا کے دو قسم کے کام ہیں، ایک بدیہی جو سب کی سمجھ میں آسکتے ہیں اور ان میں کسی کو اختلاف نہیں اور دوسرے وہ کام جو 746