نُورِ ہدایت — Page 745
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی اور قسم ہے چاند کی جب پیروی کرے سورج کی۔یعنی سورج سے نور حاصل کرے اور پھر سورج کی طرح اس نور کو دوسروں تک پہنچا دے۔اور قسم ہے دن کی جب سورج کی صفائی دکھاوے اور راہوں کو نمایاں کرے۔اور قسم ہے رات کی جب اندھیرا کرے اور اپنے پردہ تاریکی میں سب کو لے لے۔اور قسم ہے آسمان کی اور اس علت غائی کی جو آسمان کی اس بناء کا موجب ہوئی اور قسم ہے زمین کی اور اس علت غائی کی جو زمین کے اس قسم کے فرش کا موجب ہوئی اور قسم ہے نفس کی اور نفس کے اس کمال کی جس نے ان سب چیزوں کے ساتھ اس کو برابر کر دیا۔یعنی وہ کمالات جو متفرق طور پر ان چیزوں میں پائے جاتے ہیں کامل انسان کا نفس ان سب کو اپنے اندر جمع رکھتا ہے اور جیسے یہ تمام چیزیں علیحدہ علیحدہ نوع انسان کی خدمت کر رہی ہیں، کامل انسان ان تمام خدمات کو اکیلا بجا لاتا ہے۔۔۔۔اور پھر فرماتا ہے کہ وہ شخص نجات پا گیا اور موت سے بچ گیا جس نے اس طرح پر نفس کو پاک کیا۔یعنی سورج اور چاند اور زمین وغیرہ کی طرح خدا میں محو ہو کر خلق اللہ کا خادم بنا۔یادر ہے کہ حیات سے مراد حیات جاودانی ہے جو آئندہ کامل انسان کو حاصل ہوگی۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عملی شریعت کا پھل آئندہ زندگی میں حیات جاودانی ہے جو خدا کے دیدار کی غذا سے ہمیشہ قائم رہے گی۔اور پھر فرمایا کہ وہ شخص ہلاک ہو گیا اور زندگی سے نا امید ہو گیا جس نے اپنے نفس کو خاک میں ملا دیا اور جن کمالات کی اس کو استعدادیں دی گئی تھیں ان کمالات کو حاصل نہ کیا اور گندی زندگی بسر کر کے واپس گیا۔745