نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 728 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 728

دوسرے بنی نوع انسان سے بلند قامت ہوں گے اور نیکی اور تقویٰ کے لحاظ سے اس قدر فائق ہوں گے کہ اُن میں اور عام لوگوں میں کوئی نسبت ہی نہیں ہوگی۔اور جہاں تک خدا تعالیٰ کا تعلق ہے وہ باقی انسانوں کے مقابل پر اُن سے الگ قسم کا سلوک کرے گا اور وہ انہیں اپنا مقرب بنالے گا۔اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ مسلمانوں کو جو بادشاہتیں ملیں گی وہ بالکل الگ قسم کی ہوں گی۔وہ اس جہان کی بادشاہتوں کی طرح نہیں ہوں گی بلکہ مَرْفُوعَةٌ ہوں گی۔اُن کے تخت آسمان پر رکھے جائیں گے۔چنانچہ دیکھ لو مسلمان بادشاہ تو ہوئے مگر انہوں نے دنیوی طور پر بادشاہت سے کیا فائدہ اٹھایا؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تمام عالم اسلامی کے بادشاہ تھے مگر اُن کو کیا ملتا تھا۔پبلک کے روپیہ کے وہ محافظ تو تھے مگر خود اس روپیہ پر کوئی تصرف نہیں رکھتے تھے۔بے شک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بڑے تاجر تھے مگر چونکہ ان کو کثرت سے یہ عادت تھی کہ جو نہی روپیہ آیا خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیا اس لئے ایسا اتفاق ہوا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ خلیفہ ہوئے تو اس وقت آپ کے پاس نقد روپیہ نہیں تھا۔خلافت کے دوسرے ہی دن آپ نے کپڑوں کی گٹھڑی اٹھائی اور اسے بیچنے کے لئے چل پڑے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ رستہ میں ملے تو پوچھا کیا کرنے لگے ہیں؟ انہوں نے کہا آخر میں نے کچھ کھانا تو ہوا۔اگر میں کپڑے نہیں بیچوں گا تو کھاؤں گا کہاں سے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ تو نہیں ہو سکتا۔اگر آپ کپڑے بیچتے رہے تو خلافت کا کام کون کرے گا؟ حضرت ابو بکرؓ نے جواب دیا کہ اگر میں یہ کام نہیں کروں گا تو پھر گزارہ کس طرح ہوگا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ بیت المال سے وظیفہ لے لیں۔حضرت ابوبکر نے جواب دیا کہ میں یہ تو برداشت نہیں کر سکتا۔بیت المال پر میرا کیا حق ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا جب قرآن نے اجازت دی ہے کہ دینی کام کرنے والوں پر بھی بیت المال کا روپیہ صرف ہو سکتا ہے تو آپ کیوں نہیں لے سکتے۔چنانچہ اس کے بعد 728