نُورِ ہدایت — Page 727
فِيْهَا سُرُ رْ مَّرْفُوعَةٌ املا سرد سیریز کی جمع ہے اور سُٹرڈ کی بجائے آستری بھی جمع کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔اس کے معنے تخت کے ہوتے ہیں۔خصوصا یہ لفظ بادشاہ کے تخت کے لئے بولا جاتا ہے چنا نچہ کہتے ہیں زَالَ عَن سَرِيرِہ وہ اپنے سریر سے ہٹ گیا اور مراد یہ ہوتی ہے کہ ذَهَبَ عِزة نِعْمَتُه اُس کی عزت اور دولت جاتی رہی ستمی به لاَنَّ مَنْ جَلَسَ عَلَيْهِ مِنْ أَهْلِ الرَّفْعَةِ وَالْجَاهِ يَكُونُ مَسْرُورًا سریر کا لفظ اس لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ مالدار اور جاہ وجلال کے مالک لوگ تخت پر بیٹھتے ہیں تو وہ خوش ہوتے ہیں۔پس چونکہ اس مقام کا حصول دل میں سرور پیدا کرتا ہے اس لئے تخت کا نام ہی سر پر رکھ دیا گیا (اقرب) مَرْفُوعَةٌ رَفَعَ سے ہے اور رفعه کے معنے ہوتے ہیں اُس نے کسی چیز کو بلند کیا (اقرب ) یہ بلندی خواہ اونچا بنانے کے لحاظ سے ہو جیسے کہتے ہیں مینار اونچا بنایا گیا اور خواہ اونچا کرنے کے لحاظ سے ہو جیسے کسی چیز کو اُٹھا کر اونچا کیا جاتا ہے۔دونوں رنگ میں اس لفظ کا استعمال ہو جاتا ہے۔مثلاً کہتے ہیں دیوار اونچی ہے اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ لمبی چلی جاتی ہے اور قامت کے اعتبار سے بلند ہے۔یا کہتے ہیں چھت اونچی ہے اور مراد یہ ہوتی ہے کہ زمین اور چھت میں فاصلہ زیادہ ہے۔گویا قامت کی بلندی ہو یا فاصلہ کی زیادتی دونوں پر رفع کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔پس مَرْفُوعَةٌ کے معنے ہوں گے اُونچے کئے ہوئے۔بلند کئے ہوئے۔اس آیت کے ایک معنے یہ ہیں کہ وہ بلند شان والے ہوں گے۔کیونکہ سٹرڈ کے ساتھ مَرْفُوعَةٌ ہونا زیادہ شان اور عزت پر دلالت کرتا ہے۔لیکن اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ وہ بلند رکھے گئے ہوں گے۔گویا دونوں قسم کی خوبیاں اُن میں پائی جاتی ہوں گی۔مومنوں کی یہ شان بھی ہوگی کہ وہ نیک اعمال میں ترقی کرتے جائیں گے اور دوسروں سے نیکی میں بلند قامت ہونے کی کوشش کریں گے اور وہ اس لحاظ سے بھی مَرْفُوعَةٌ ہوں گے کہ خُدا تعالیٰ اُن کو اپنی طرف اٹھا لے جائے گا۔گویا جہاں تک اُن کا انسانوں سے واسطہ ہے وہ 727