نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 719 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 719

نہیں ہوگا کہ خدا کا رسول دب جائے یا اکیلا رہ جائے بلکہ اُس کی جماعت بڑھتی چلی جائے گی اور وہ جماعت ایسی ہوگی جو دنیا میں عزت اور کامیابی حاصل کرنے والی ہوگی۔چنانچہ انہی کا ذکر وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاعِمَةٌ میں کیا گیا ہے۔سرداران کفار کو وجوہ اس لئے کہا گیا تھا کہ وہ ابتداء میں وُجُودٌ تھے گو بعد میں خَاشِعَة ہو گئے۔اور جولوگ گر جائیں، لوگوں کی نگاہ میں ذلیل ہو جائیں، اُن کی آواز میں کوئی اثر نہ رہے اور وہ غم والم کی آگ میں ہر وقت جلتے رہیں وہ وجوہ نہیں رہتے۔پس اُن کا نام وُجُوهٌ اُن کی ابتدائی حالت کی وجہ سے رکھا گیا تھا۔کیونکہ شروع میں وہ واقعہ میں سرداران قوم میں سے تھے۔بڑی عزت اور وجاہت رکھتے تھے۔مگر مسلمانوں کا نام وجود اُن کی انتہا کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کام وہی اچھا ہوتا ہے جس کا انجام اچھا ہو۔کافر وُجُوا بن کر اٹھے اور خاشعة بن کر رہ گئے۔مگر مومن گری ہوئی حالت سے اُٹھے اور وجونا بن گئے۔ہر قسم کی عزت ، رتبے اور درجے اُن کو حاصل ہو گئے۔وجوہ کے ساتھ کاعمة کا لفظ بڑھا دیا اور ناعمة کے دو معنے بتائے جاچکے ہیں حسن و نضارت والے اور یہ بھی کہ وہ متنعمة ہوں گے۔یعنی بڑی بڑی نعمتیں اُن کو حاصل ہوں گی۔ذاتی طور پر بھی وہ کمال رکھیں گے اور ماحول کے لحاظ سے بھی کمال رکھیں گے۔جہاں اُن کو ذاتی طور پر بھی وہ عمتیں حاصل ہوں گی وہاں اللہ تعالیٰ اُن کو بیرونی نعمتیں بھی عطا کرے گا۔ظاہری معنوں کے لحاظ سے یہ مراد ہوگی کہ وہ حسین ، خوبصورت اور صاحب اموال ہوں گے اور روحانی لحاظ سے یہ معنے ہوں گے کہ وہ متقی اور صاحب علوم ہوں گے۔یعنی متقی بھی ہوں گے اور علوم روحانیہ بھی اُن کو حاصل ہوں گے۔اپنی ذات میں بھی کامل عرفان اور استغنا اُن کو حاصل ہوگا اور اُن کے پاس ایسے علوم اور اموال بھی ہوں گے جو دوسروں کو سکھا سکیں اور دے سکیں۔محسن ایک ذاتی چیز ہے اور مال ایسی چیز ہے جو دوسرے کو دی جاسکتی ہے۔اسی طرح تقویٰ ایسی چیز ہے جو انسان کسی کو نہیں دے سکتا لیکن علم ایسی چیز ہے جو دوسرے کو دے سکتا ہے۔719