نُورِ ہدایت — Page 713
وَحَضَر۔وہ قریب ہو گیا اور سامنے آ گیا۔جب پانی کے متعلق یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس کے معنے ہوتے ہیں انقضی حده - کہ پانی سخت گرم ہو گیا ( اقرب) جیسے آگ کے متعلق کہتے ہیں حَمِيتِ النَّارُ یعنی آگ سخت بھڑک اٹھی۔اسی طرح پانی کے لئے جب یہ لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنے ہوتے ہیں وہ تیز گرم ہو گیا۔پس تُسقى مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ کے یہ معنے ہوئے کہ انہیں ایسے چشمے سے پانی پلایا جائے گا جو نہایت تیز گرم ہوگا یا ایسے بادلوں سے اُن پر پانی برسے گا جونہایت شدید گرم ہوں گے اور ان کو جھلس کر رکھ دیں گے۔انسان پانی پیتا ہے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ پیاس بجھے اور پیاس ہمیشہ ٹھنڈا پانی بجھاتا ہے۔لیکن یہاں یہ ذکر ہے کہ ان کو سخت گھولتا ہوا گرم پانی پلایا جائے گا۔گرم پانی انسان دو ہی حالتوں میں پیتا ہے یا تو اس وقت جب بیمار ہو اور علاج کے لئے اُسے گرم پانی پینا پڑے اور یا پھر اُس وقت جب ٹھنڈا پانی اُسے میسر نہ آئے اور مجبوراً گرم پانی پینا پڑے۔(گو اس زمانہ میں لوگوں میں چائے کا طریق مروج ہو گیا ہے جو گرم بھی ہوتی ہے اور پیاس بجھانے کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہے مگر وہ در حقیقت ایک غذا ہے۔پانی کا قائمقام نہیں ) پس گرم پانی پینے کا ذکر فرما کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ ہر آرام سے محروم ہو جائیں گے یا یہ کہ ان کی روحانی امراض کو دور کرنے کے لئے انہیں ابتلاؤں میں ڈالا جائے گا اور ایسے گرم چشمہ سے اُن کو پانی پلایا جائے گا جس کی گرمی انتہا درجہ تک پہنچی ہوئی ہوگی۔یعنی پانی پینے کی جو اصل غرض ہوتی ہے کہ انسانی جسم پر تر و تازگی آئے وہ اُن کو حاصل نہیں ہوگی۔دُنیا میں دو قسم کی چیزیں ہیں۔ایک تو ایسی ہیں جو نضارت اور تر و تازگی پیدا کرتی ہیں اور ایک ایسی ہیں جو موٹاپا پیدا کرتی ہیں۔ان میں سے ایک مقصد غذا سے اور دوسرا مقصد پانی سے حاصل ہو جاتا ہے۔پانی پینے سے تروتازگی حاصل ہوتی ہے اور غذا کھانے سے بھوک دور ہوتی اور جسم فربہ ہوتا ہے۔کفار کے متعلق بتایا کہ اُن کو یہ دونوں باتیں حاصل نہیں ہوں گی۔نہ اُن کے اندر تازگی پائی جائے گی۔اور نہ اُن کے جسم پر گوشت چڑھے گا یعنی اُن کے دل بھی مرجھا جائیں گے اور 713