نُورِ ہدایت — Page 700
ہے مگر جب سوکھ جاتی ہے تو اسی کو ضریع کہتے ہیں۔کانٹے دار اور بدبودار تلخ ہوتی ہے۔تضرع اسی سے مشتق ہے۔سورۃ المومنون رکوع چہارم پارہ نمبر 18 میں فرمایا ہے کہ قحط شدید میں ضریع کو کھا کر بھی تضرر ع نہیں کیا۔كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى : وَلَقَد أَخَذُ لَهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ (المومنون (77) اس آیت شریف کا نزول مفسرین نے قحط شدید کے وقوع کے بارے ہی میں لکھا۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں ہوا تھا۔وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاعِمَةٌ ہے جو (ضمیمه اخبار بدر قادیان یکم اگست 1912ء) جن لوگوں کے شامل حال خداوند کریم کا فضل ہوتا ہے۔ان کے لئے ضرر کے سامان بھی ضرررساں نہیں ہوتے۔ہمارے ملک میں بڑے بڑے شدید قحط پڑے مگر جو فاتح قو میں تھیں۔قحط میں بھی وہ متنعم ہی رہیں۔ع منعم بکوه و دشت و بیابان غریب نیست هر جا که رفت خیمه زد و بارگاه ساخت و یہ ظاہر امر ہے کہ مکہ میں یہ آیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہورہی ہیں۔اور اسی حالت میں اہلِ مکہ کو بتایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کو آج تم ایک بے کس اور بے بس یقین کرتے ہو اور فی الواقعہ آج بھی وہ ایسا ہی ہے بھی۔کیونکہ کوئی جٹھہ اور جمیعت اس کے ساتھ نہیں اور تم سمجھتے ہو کہ بہت جلد اسے نابود کر دو گے۔مگر یا درکھو کہ ایک وقت آتا ہے کہ اس کی قوت اور شوکت کا دائرہ وسیع ہوگا اور تم سب اس کے زیر اقتدار ہو گے۔اس وقت مخالفین عجیب گھبراہٹ کی حالت میں ہوں گے اور وہ ذلیل ہوں گے۔ایک آگ میں وہ داخل کئے جائیں گے۔آگ سے مراد نار الحرب بھی ہوتی ہے۔اور جہنم بھی۔پس دنیا کی جنگ میں ان کی ناکامی اور نامرادی نار جہنم کے لئے دلیل ہے۔وہ اس مقابلہ میں ہار جائیں گے۔ان کو کھولتا ہوا پانی اور خاردار جھاڑیاں جن کو چھتر تھوہر کہتے ہیں کھانے کو ملیں گی۔اس کا ثبوت دنیا میں یوں ملتا ہے کہ آتشک کے مریض کے لئے تھوہر کے دودھ میں 700