نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 698 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 698

پھر اونٹ زیادہ بارکش اور زیادہ چلنے والا ہے اس سے صبر و برداشت کا سبق ملتا ہے۔پھر اونٹ کا خاصہ ہے کہ وہ لمبے سفروں میں کئی کئی دنوں کا پانی جمع رکھتا ہے۔غافل نہیں ہوتا۔پس مومن کو بھی ہر وقت اپنے سفر کے لئے طیار اور محتاط رہنا چاہیے اور بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى أَفَلَا يَنظُرُون کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیکھنا بچوں کی طرح دیکھنا نہیں ہے بلکہ اس سے اشباع کا سبق ملتا ہے کہ جس طرح پر اونٹ میں تمدنی اور اتحادی حالت کو دکھایا گیا ہے اور ان میں اشباع امام کی قوت ہے اسی طرح پر انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اشباع امام اپنا شعار بناوے کیونکہ اونٹ جو اس کے خادم ہیں ان میں بھی یہ مادہ موجود ہے۔كَيْفَ خُلقت میں ان فوائد جامع کی طرف اشارہ ہے جو اہل کی مجموعی حالت سے پہنچتے ہیں۔احکم جلد 4 نمبر 42 مورخہ 24 نومبر 1900ءصفحہ5،4) هَلْ أَنكَ حَدِيثُ الْعَاشِيَةِ۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ا حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ۔اکثر اہل تفاسیر نے قیامت کے حوادث مراد لئے ہیں۔یہ صحیح بات ہے کہ قیامت کے حوادث اپنے ہولناک ہونے کی وجہ سے غاشیات ہی ہوں گے کہ انسانوں کے ہوش و حواس عقل و فکر سب کچھ مارے جائیں گے مگر قرآن کریم کے اسلوب اور اس کے لٹریچر پر نظر کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ جہاں کہیں قرآن شریف میں هَلْ أَتَكَ حَدِيثُ كَذَا وَ گذا آیا ہے وہاں دنیوی عقوبات ، اخروی عقوبات کے ساتھ پیوستہ بلکہ مقدم رکھے گئے ہیں جیسا کہ هَلْ آتك حَدِيثُ الْجُنُودِ فِرْعَوْنَ وَثَمُودَ (بروج 19-18) هَلْ أَتَكَ حَدِيثُ مُوسى وغیرہ آیات سے ثابت ہے۔اسی طرح سے جیسا کہ انبیاء سابقین اور ان کی امم کے ساتھ جو معاملات ہوئے ان کے ہم رنگ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی کوئی عظیم اله عقوبت آسمانی آنے والی تھی اس کو هَلْ أَنكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ میں ذکر فرمایا۔عقوبتیں تو 698