نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 697 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 697

أفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِيلِ كَيْفَ خُلِقَتْ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: قرآن شریف میں جو یہ آیت آئی ہے اَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ۔آیت نبوت اور امامت کے مسئلہ کو حل کرنے کے واسطے بڑی معاون ہے۔اونٹ کے عربی زبان میں ہزار کے قریب نام ہیں اور پھر ان ناموں میں سے اہل کے لفظ کو جو لیا گیا ہے اس میں کیا سر ہے؟ کیوں الى الجبل بھی تو ہو سکتا تھا؟ اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جمل ایک اونٹ کو کہتے اور اہل اسم جمع ہے۔یہاں اللہ تعالی کو چونکہ تمدنی اور اجماعی حالت کا دکھانا مقصود تھا اور جمل میں جو ایک اونٹ پر بولا جاتا ہے یہ فائدہ حاصل نہ ہوتا تھا اس لئے ابل کے لفظ کو پسند فرمایا۔اونٹوں میں ایک دوسرے کی پیروی اور اطاعت کی قوت رکھی ہے۔دیکھو اونٹوں کی ایک لمبی قطار ہوتی ہے اور وہ کس طرح پر اس اونٹ کے پیچھے ایک خاص انداز اور رفتار سے چلتے ہیں اور وہ اونٹ جوسب سے پہلے بطور امام اور پیش رو کے ہوتا ہے وہ ہوتا ہے جو بڑا تجربہ کار اور راستہ سے واقف ہو۔پھر سب اونٹ ایک دوسرے کے پیچھے برابر رفتار سے چلتے ہیں اور ان میں سے کسی کے دل میں برابر چلنے کی ہوس پیدا نہیں ہوتی جو دوسرے جانوروں میں ہے جیسے گھوڑے وغیرہ میں۔گو یا اونٹ کی سرشت میں اتباع امام کا مسئلہ ایک مانا ہوا مسئلہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ کہہ کر اس مجموعی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے جبکہ اونٹ ایک قطار میں جا رہے ہوں اسی طرح پر ضروری ہے کہ تمدنی اور اتحادی حالت کو قائم رکھنے کے واسطے ایک امام ہو۔پھر یہ بھی یادر ہے کہ یہ قطار سفر کے وقت ہوتی ہے۔پس دنیا کے سفر کو قطع کرنے کے واسطے جب تک ایک امام نہ ہو انسان بھٹک بھٹک کر ہلاک ہو جاوے۔697